جدید علم کلام
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۴
اس کا جواب دینے بیٹھ جائے تو وہ خود بھی بے راہ ہوگا اور سائل کو بھی بے راہ کرے گا۔ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک سوال میں بہت عرصہ سے الجھا ہوا ہوں، آپ اس کو حل کیجئے۔ پھر انھوں نے کہا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد ہی آدمی کے عمل کے مطابق اس کا عذاب و ثواب شروع ہو جاتا ہے۔ اب کوئی شخص ہے جو آج ساٹھ سال گزار کر مر جاتا ہے، کوئی شخص ہے جو دس ہزار سال پہلے اتنی ہی عمر گزار کر مر چکا ہے۔ یہ دونوں اگر جہنمی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یکساں برے عمل پر ایک شخص نے دوسرے کے مقابلہ میں دس ہزار سال زیادہ سزا پائی اور دونوں اگر جنتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یکساں اچھے عمل پر ایک شخص نے دوسرے کے مقابلہ میں دس ہزار سال زیادہ جنت کا لطف حاصل کیا۔ ایسی حالت میں تو خدا کو چاہیے تھا کہ وہ سب کو ایک وقت میں پیدا کرتا اور سب کو ایک وقت میں مارتا۔ تاکہ ہر ایک کو برابر جزا یا سزا ملے۔ اس قسم کے سوالات صرف ذہنی بے راہی کے سوالات ہیں۔ ہم ایک محدود دنیا میں رہتے ہیں۔ ہمارا ذہن زمان و مکان کی حد بندیوں میں رہ کر سوچتا ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس دنیا کی حقیقتوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں نہیں لاسکتے جو لا محدود ہے اور زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد ہے۔ ایسی دنیا کے بارے میں ہم صرف اجمالی علم حاصل کر سکتے ہیں اور اس معاملہ میں ہمیں صرف اجمالی علم پر قناعت کرنا چاہئے۔ اس سے زیادہ کی خواہش کرنا صرف اپنے کو بے راہی کے خطرہ میں ڈالنا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آیتیں اتاری ہیں وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک محکمات، دوسری متشابہات۔ محکم آیتیں وہ ہیں جو ہماری معلوم دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایسے امور میں خدا نے براہ راست زبان میں اپنا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ان احکام کو ہم لفظی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ جیسے یہ حکم کہ چور کا ہاتھ کاٹو (مائدہ ۳۸)۔ متشابہ آیتوں سے مراد متماثل آیتیں ہیں۔ یہ وہ آیتیں ہیں جن کا تعلق غیب کی دنیا سے ہے۔ ایسی آیتوں میں اللہ نے بات کو تمثیلی زبان (Symbolic Language) میں بیان کیا ہے جیسے یہ کہ اللہ تخت پر متمکن ہوا (اعراف ۵۴) محکم آیتوں میں تفصیلات اور تعینات تک پہنچنے کی کوشش کرنا مفید ہے۔ لیکن اگر اسی طرح متشابہ آیتوں میں تفصیلات اور تعینات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ بھٹکنے کے سوا اور کچھ نہ ہوگا ۔ علم کی یہ تقسیم فطرت کے عین مطابق ہے۔ جدید سائنس نے عالم فطرت کی جو تحقیق کی ہے اس نے انسانی علم کی محدودیت کو آخری طور پر ثابت کر دیا ہے۔ جدید دنیا کا یہ مسلمہ ہے کہ انسان اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اشیاء کا صرف جزئی علم حاصل کر سکتا ہے، وہ کلی علم تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس اعتبار سے قرآنی کلامیات کا پہلا اصول عین علمی اصول ہے۔ یہ وہ اصول ہے جس پر جدید ذہن خود اپنی تحقیق کے نتیجہ میں پہنچ چکا ہے۔
۲- قرآنی کلامیات کا دوسرا اصول حقائق فطرت سے استدلال ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم