Al-Risala · June 1981 · page 18

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸

فاعلة - قالت لا والله ما كنتُ لأفعله - قال فعائشة والله خير منك، سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۴۳) قرآن میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے :

لولا اذ سمعتموه ظن المومنون والمومنات ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مردوں بانفسهم خيرا وقالوا هذا افك مبين اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کی بابت اچھا گمان کیا ہوتا (نور ۱۲) اور کہتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان ہے۔

جب کسی کے متعلق کوئی بات سامنے آئے تو ہمیشہ اس کو اچھے مفہوم میں لینے کی کوشش کرنا چاہئے ۔ انسانی زندگی کا معاملہ ایک بے حد پیچیدہ معاملہ ہے۔ کسی انسانی واقعہ کو بخوبی طور پر سمجھنے کے لئے بہت سی چیزوں کے بارے میں قطعی معلومات ضروری ہوں جو عام طور پر ایک آدمی کو حاصل نہیں ہوتیں۔ کسی انسانی واقعہ کے بہت سے اجزاء ہوتے ہیں۔ ایک ہی واقعہ کو ناکافی معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے تو کچھ نظر آتا ہے اور کافی معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے تو کچھ ۔ بیشتر حالات میں کسی شخص کے سامنے واقعہ کے تمام اجزاء نہیں ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جلد رائے قائم کرنے والا اکثر غلط رائے قائم کرتا ہے۔ پھر کوئی آدمی کیوں غیر ضروری طور پر اپنے کو آزمائش میں ڈالے۔ وہ کیوں ایسی بات کہے جس کو وہ سچائی کی عدالت میں صحیح ثابت نہ کر سکتا ہو۔

اسلامی معاشرہ خدا سے ڈرنے والوں کا معاشرہ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں ہر آدمی کی زبان پر اللہ کے ڈر کی لگام لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں وہ دوسرے کے بارے میں کبھی بدخواہی کا کلمہ نہیں کہہ سکتے۔ جو آدمی اس پر یقین رکھتا ہو کہ بالآخر سارے معاملات خدا کے یہاں پیش ہونے والے ہیں وہ دوسرے کے بارے میں کوئی بات زبان سے نکالتے ہوئے فوراً یہ سوچتا ہے کہ میری بات اگر خدا کے یہاں بے دلیل ٹھہرے تو میں کیا کروں گا۔ ایسا آدمی دوسروں کے ساتھ کبھی ایسا رویہ اختیار نہیں کرتا جو اس کو خدا کے یہاں بے قیمت کر دینے والا ہو۔ کسی آدمی کے ساتھ برا سلوک کرتے ہوئے وہ اس طرح ڈر نے لگتا ہے جیسے اس آدمی کے ساتھ خود خدا کھڑا ہوا ہو۔

خدا سے ڈرنے والا آدمی نہ صرف یہ کہ دوسرے کے خلاف کوئی بات کہنے میں بے حد محتاط ہوتا ہے بلکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص ایک مسلمان کو بے آبرو کر رہا ہے تو وہ اس مسلمان کی طرف سے مدافعت کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ مظلوم کے حق میں غیر جانب دار نہیں رہتا بلکہ وہ اس کا طرف دار بن جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے بھائی کی عزت و آبرو کا محافظ سمجھتا ہے۔ وہ جب کسی کو دیکھتا ہے کہ وہ دوسرے کی بے آبروئی کر رہا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے ۔ هـذا افاك مبين

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page