Al-Risala · June 1981 · page 19

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹

تذکیر القرآن الاعراف ۷ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ۔ نوح نے کہا اے میری قوم ، اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہواں۔ اس کی قوم کے بڑوں نے کہا کہ ہم تو یہ نظر آتا ہے کہ تم ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو ۔ نوح نے کہا کہ اے میری قوم، مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں بھیجا ہوا ہوں سارے عالم کے پروردگار کا ۔ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں ۔ اور میں اللہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ کیا تم کو اس پر تعجب ہو کہ تمہارے رب کی نصیحت تمہارے پاس تمھیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ پس انہوں نے اس کو جھٹلا دیا ۔ پھر ہم نے نوح کو بچا لیا اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے اور ہم نے ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ بے شک وہ لوگ اندھے تھے ۵۹ - ۴۶۔

حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولاد آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تاکہ ان کے احوال و عبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وُد، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کر لیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوں نے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔

اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لئے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہو چکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کر دیا۔ انھوں نے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہو گئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی ، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کر سکی۔

حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کر دی گئی ۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوں نے چاہا کہ "معمولی شخصیت" کے بجائے کسی "مسلمہ شخصیت" کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدا نے آدمی کو بصیرت اس لئے دی ہے کہ وہ "نشانی" کے روپ میں حق کو پہچان لے نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیں وہ خدا کی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page