زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰
تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انھوں نے کہا اے میری قوم ، اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ سو کیا تم ڈرتے نہیں۔ اس کی قوم کے بڑے جو انکار کر وہے تھے بولے ، ہم تو تم کو بے عقلی میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم کو گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ ہود نے کہا کہ اے میری قوم، مجھے کچھ بے عقلی نہیں۔ بلکہ میں خدا وند عالم کا رسول ہوں۔ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ کیا تم کو اس پر تعجب ہے کہ تمھارے پاس تمھیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ تمھارے رب کی نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور یاد کرو جب کہ اس نے قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاو بھی زیادہ دیا۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ حضرت نوح کی کشتی میں جو اہل ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے ارم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتدا حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر رہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال کے مطابق خدا کے پیغمبر کے اندر ہونا چاہئے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے۔ ”میں تمھارا ناصح اور امین ہوں“ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے دل میں مدعو کے لئے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہا ہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میں دوسروں کو عطا کر رہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لئے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہا ہوں۔ پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میں آ جائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے ۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے نہ کہ کسی اور روپ میں۔
”خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تا کہ تم کامیاب ہو“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اس کے لئے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس لئے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم و محسن ہونے کی حیثیت کو پا لیا ہو ۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues