زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱
تذکیر القرآن الاعراف ۷ ھود کی قوم نے کہا، کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ پس تم جس عذاب کی دھمکی ہم کو دیتے ہو اس کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ ہود نے کہا، تم پر تمہارے رب کی طرف سے ناپاکی اور غصہ واقع ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نہیں اتاری۔ پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور مانتے نہ تھے۔ ۷ - ۷۲ انسان ناموں کے ذریعہ کسی چیز کا تصور قائم کرتا ہے۔ کسی شخص کے ساتھ اچھا لفظ لگ جائے تو وہ اچھا معلوم ہوتا ہے اور اگر برا لفظ لگ جائے تو برا دکھائی دینے لگتا ہے۔ خدا کے سوا دوسری چیزیں یا ہستیاں جو آدمی کی تو جہات کا مرکز بنتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی نام ہوتے ہیں۔ لوگ کسی شخصیت کو غوث پاک ، گنج بخش ، غریب نواز مشکل کشا جیسے الفاظ سے پکارنے لگتے ہیں۔ یہ الفاظ دھیرے دھیرے ان شخصیتوں کے ساتھ ایسا وابستہ ہو جاتے ہیں کہ لوگ یقین کر لیتے ہیں کہ جس کو غوث (فریاد رس) کہا جاتا ہے وہ واقعی فریاد کو پہنچنے والا ہے اور جس کو مشکل کشا کے نام سے پکارا جاتا ہے سچ مچ وہ مشکلوں کو حل کرنے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام صرف انسانوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ ان ناموں کا کوئی ہستی کہیں موجود نہیں۔ ان کے حق میں نہ کوئی شرعی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل۔
ناموں کی شریعت کی ایک قسم وہ ہے جو جاہل انسانوں کے درمیان رائج ہے۔ تاہم اس کی ایک زیادہ مہذب صورت بھی ہے جو پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان مقبول ہے۔ یہاں بھی کچھ شخصیتوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی الفاظ وابستہ کر دئے جاتے ہیں، مثلاً قدسی صفات، محبوب خدا، ستون اسلام، نجات دہندہ ملت وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ دھیرے دھیرے مذکورہ شخصیتوں کے نام کا جز بن جاتے ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں کو ویسا ہی غیر معمولی سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ ان کو دئے ہوئے نام سے ظاہر ہوتا ہے۔
جو چیز "باپ دادا" سے چلی آرہی ہو، بالفاظ دیگر جس نے تاریخی اہمیت حاصل کرلی ہواور طویل روایات کے نتیجہ میں جس کے ساتھ ماضی کا تقدس شامل ہو گیا ہو وہ لوگوں کی نظر میں ہمیشہ عظیم ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں "آج" کے داعی کی بات ہلکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ حال کے داعی کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کو اعتماد ہوتا ہے کہ وہ اسلاف کی عظمتوں کے وارث ہیں پھر کون ان کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔
خدا کے معاملہ میں ڈھٹائی آدمی کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ نصیحت اور یاد دہانی کی زبان میں کوئی اصلاح قبول کر سکے۔ ایسے لوگ گویا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا عذاب کی زبان میں ان کے سامنے ظاہر ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues