زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲
اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم ، اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک کھلا ہوا نشان آگیا ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے۔ پس اس کو چھوڑ دو کہ وہ کھائے اللہ کی زمین میں ۔ اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچانا ورنہ تم کو ایک درد ناک عذاب پکڑلے گا۔ اور یاد کرو جب کہ خدا نے عاد کے بعد تم کو ان کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں ٹھکانا دیا، تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو ۷۴ ۔
قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے ۔ ان کی نسل بڑھی اور انہوں نے زراعت اور تعمیرات میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجری مکانات کی صورت دے دی۔ بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جو مادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی ، آخرت فراموشی ، حدو د اللہ سے بے پروائی ، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا ۔ اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کا ئنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کر کے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلا نا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے نا اہل قرار دے دیا گیا ۔
قوم ثمود کو جانچنے کے لئے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کر دئے جاؤ گے۔ خدا کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لئے ایک خوفناک شیر مقرر کر دے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے کہ آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ "اونٹنی " کی سطح پر لیا جاتا ہے نہ کہ "شیر" کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں کی خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جا رہا ہے اور کسی کو جہنم کا ۔ ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیدا کیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی ، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھی یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہئے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کر رکھا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues