زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳
ان کی قوم کے بڑے جنہوں نے گھمنڈ کیا ، ان مومنین سے جو بے جو ناتوان گنے جاتے تھے ، کیا تم کو یقین ہے کہ صالح اپنے رب کے بھیجے ہوئے رہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم تو جو وہ لے کر آئے ہیں ، اس پر ایمان رکھتے ہیں، وہ متکبر لوگ کہنے لگے کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو۔ پھر انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے پھر گئے۔ اور انھوں نے کہا ، اے صالح اگر تم پیغمبر ہو تو وہ عذاب ہم پر لے آؤ جس سے تم ہم کو ڈراتے تھے۔ پھر انھیں زلزلہ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے منھ پڑے رہ گئے۔ اور صالح یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ اے میری قوم، میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچادیا اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازع شخصیت ہوتا ہے نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے چنا ہے۔
’’ ہم صالح کے پیغام (بما ارسل بہ) پر ایمان لائے ہیں، حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکروں نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکرین کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی ، انھوں نے آپ کو نظر انداز کر دیا۔ اس کے برعکس مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں ، وہ فوراً ان کے ساتھی بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی ہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دے دئے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں ۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں۔ ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے لیے اٹھے ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues