Al-Risala · June 1981 · page 24

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۴

اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا۔ کیا تم کھلی بے حیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہیں اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک بننے ہیں۔ پھر ہم نے بچا لیا لوط کو اور اس کے گھر والوں کو ، اس کی بیوی کے سوا جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی ۔ اور ہم نے ان پر بارش برسائی پتھروں کی ، پھر دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا ۸۴۔ ۔ ۸۰ ۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے، جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتیٰ کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوں نے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کو اختیار کر لیا۔ پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔

کائنات کے لیے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میں اصلاح کہا گیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فساد میں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا فطری طریقہ یہ ہے کہ عورت مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم کئے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزر جانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہا گیا ہے۔ حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے ۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا۔ ”جب یہ ہم سب لوگوں کو گندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیا کام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے“، ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرات اس لئے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔

حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمدؐ کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف۔ فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page