Al-Risala · June 1981 · page 25

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کر دو، اس کے سوا کوئی تمھارا معبود نہیں۔ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے۔ پس ناپ اور تول پوری کرو۔ اور مت گھٹا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں۔ اور فساد نہ ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد۔ یہ تمھارے حق میں بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور راستوں پر مت بیٹھو کہ ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے ان لوگوں کو روکو جو اس پر ایمان لا چکے ہیں اور اس راہ میں کجی تلاش کرو۔ اور یاد کرو جب کہ تم بہت تھوڑے تھے پھر تم کو بڑھا دیا۔ اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔ اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس پر ایمان لایا ہے، جو دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا ہے تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۸۴-۸۵ حضرت ابراہیمی کے ایک صاحب زادہ مدین تھے جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوئے۔ اہلِ مدین انھیں کی نسل سے تھے۔ یہ قوم بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھی۔ یہ لوگ خدا کو ماننے والے تھے اور اپنے کو دین ابراہیم کا حامل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے پانچ سو سال بعد ان کے اندر بگاڑ آ گیا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اظہار اسی پہلو سے ہوا۔ وہ ناپ تول اور لین دین میں دیانت داری کے اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہے۔

دوسرے سے معاملہ کرنے میں بے انصافی خدا کے قائم کردہ نظام اصلاح کے خلاف ہے۔ خدا نے اپنی دنیا کا نظام کامل انصاف پر قائم کیا ہے۔ یہاں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لیتے وقت دوسرے سے زیادہ لے اور دیتے وقت دوسرے کو کم دے۔ یہاں ہر چیز حسابی صحت کی حد تک انصاف کے اصول پر قائم ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو بھی وہی کرنا چاہئے جو اس کے گردو پیش کی ساری کائنات کر رہی ہے۔ ایسا نہ کرنا خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرنا ہے۔

اہلِ مدین کا معاملات بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو خدا نے حضرت شعیب کو ان کی طرف اپنا پیغام لے کر بھیجا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ معاملاتی میں راستی اور دیانت داری کا طریقہ اختیار کرو۔ آپ نے کھلے کھلے دلائل کے ذریعہ ان کو آخری حد تک باخبر کر دیا۔ مگر وہ نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ حتیٰ کہ ان کا حال یہ ہوا کہ خود حضرت شعیب کی دعوت کو مٹانے پر تل گئے۔ وہ آپ کی باتوں میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو آپ کے بارے میں غلط فہمی میں ڈالتے۔ وہ جارحانہ کارروائیوں کے ذریعہ کوشش کرتے کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ دیں۔ بالآخر ان پر خدائی عذاب آیا اور وہ تباہ کر دئے گئے۔ بندوں کے حقوق کی رعایت اور باہمی معاملات کی درستگی خدا کی نظر میں اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کی مخالفت پر ایک قوم، ایمان کی دعوے دار ہونے کے باوجود تباہ کر دی گئی ۔ خدا بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور بہتر فیصلہ جانب داری کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا بے کلمہ والوں کو ان کی بے انصافی پر کترے اور کلمہ والوں کو ٹھیک اسی بے انصافی پر چھوڑ دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page