زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶
تذکیر القرآن الاعراف ۷ قوم کے بڑے جو متکبر تھے انھوں نے کہا کہ اے شعیب ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمھارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آ جاؤ۔ شعیب نے کہا، کیا ہم بیزار ہوں تب بھی۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر ہم تمھاری ملت میں لوٹ آئیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دی۔ اور ہم سے یہ ممکن نہیں کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے۔ ہمارا رب ہر چیز کو اپنے علم سے گھیرے ہوئے ہے۔ ہم نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے ورمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے، تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اور ان بڑوں نے جنھوں نے اس کی قوم میں سے انکار کیا تھا کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرو گے تو تم برباد ہو جاؤ گے۔ پھر ان کو زلزلہ نے پکڑ لیا۔ پس وہ اپنے گھر میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا گویا وہ کبھی اس بستی میں بسے ہی نہ تھے، جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی گھاٹے میں رہے۔ اس وقت شعیب ان سے منہ موڑ کر چلا اور کہا، اے میری قوم میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا چکا اور تمھاری خیر خواہی کر چکا۔ اب میں کیا افسوس کروں منکروں پر ۹۳۔ ۸۸ حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افترا کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کر رکھا تھا جس کو خدا نے ان کے لئے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھیں جن پر اس سے پہلے خدا نے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوں نے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کر دیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔
وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوں نے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے میدان میں اپنے کو لاجواب پا کر یہ چاہا کہ زور و قوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کر دیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد دلائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرارہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہو جائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خدا ان سے بھی زیادہ طاقت در ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہو جائے اس کے لئے کہیں پناہ نہیں۔
کسی شخص کے لئے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طور پر واضح ہو جائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیاد پر دنیا میں بھی کسی مجرم کے لئے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لئے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues