زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۷
تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی نبی بھیجا ، اس کے باشندوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ گڑ گڑائیں ۔ پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ انھیں خوب ترقی ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ تکلیف اور خوشی تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچتی رہی ہے۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا گمان بھی نہ رکھتے تھے۔ اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی نعمتیں کھول دیتے ۔ مگر انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا ان کے اعمال کے بدلے۔ پھر کیا بستی والے اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آ پڑے جب کہ وہ سوتے ہوں۔ یا کیا بستی والے اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا عذاب آپہنچے ان پر دن چڑھے جب وہ کھیلتے ہوں۔ کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیروں سے بے خوف ہو گئے ہیں ۔ پس اللہ کی تدبیروں سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو تباہ ہونے والے ہوں ۹۹ - ۹۹-۹۴ حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس لئے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لا يزال البلاء بالمؤمن حتى يخرج نقيا من ذنوبه والمنافق مثله كمثل الحمار لايدرى فيم ربطه اهله ولا فيم ارسلوہ ، تفسیر ابن کثیر)
خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے ، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے لئے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الہی کے تحت التباس واشتباه کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب علل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے ۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی ۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑ جاتے ہیں ۔ ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی ۔ یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔
سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطر ناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہو چکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگرچہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے ۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues