زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸
تذکیر القرآن الاعراف ۷ کیا سبق نہیں ملا ان کو جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو پکڑ لیں ان کے گناہوں پر۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے پس وہ نہیں سمجھتے۔ یہ وہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ہمارے رسول نشانیاں لے کر آئے تو ہرگز نہ ہوا کہ وہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اس طرح اللہ منکرین کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے۔ اور ہم نے ان کے اکثر لوگوں میں عہد کا نباہ نہ پایا اور ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان پایا ۱۰۲۔ ۱۰۰ زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتا ہے۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالی کے تمام مقامات پر قابض ہو جاتی ہے۔
یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالاتر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ جان سکتا ہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج و زوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے لئے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
خدا نے آنکھ اور کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس لئے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاہئے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل و دماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔
انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے لئے خدا کے پیغمبر آئے۔ اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعہ اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا جنہوں نے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر کئے ہوئے عہد اسلام کو بھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جو پہلی بار مومنین آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے لئے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues