جنت المعلیٰ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸
جنت المعلیٰ
مکہ جس زمین پر آباد ہے وہ ایک طرف نیچی اور دوسری طرف اونچی ہے۔ نچلے علاقہ کو مشعلہ اور اونچے علاقہ کو مُعلّیٰ کہتے ہیں۔ اونچائی والے علاقہ میں ایک قدیم قبرستان ہے۔ اس کا نام جنت المعلیٰ ہے۔ یہ مکہ سے منیٰ کے رخ پر واقع ہے۔ اس قبرستان میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی قبر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابراہیم اور آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب کی قبر ہے۔ آپ کے چچا ابو طالب اور آپ کے دادا عبدالمطلب کی قبریں بھی یہیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر جیسا صحابی اور ابو جعفر منصور جیسا حکمران بھی یہیں مدفون ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سے لوگوں کے مزارات ہیں جو ان شخصیتوں کی یاد دلاتے ہیں جو کبھی ہماری طرح زمین پر چلتے پھرتے تھے۔ زندہ آدمی کی علامت گھر ہوتے ہیں اور مردہ آدمی کی علامت قبرستان۔ قبرستان ہم کو یاد دلاتے ہیں کہ یہاں کچھ زندہ آدمی تھے جو اپنی عمر کی مدت پوری کرکے زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہوگئے ۔ پھر وہ قبرستان جس کے باسیوں کا حال نام معلوم ہو، اس کی اہمیت اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایسے قبرستان تاریخ کا جزو ہوتے ہیں۔ وہ تاریخ کے زندہ صفحات ہوتے ہیں جن میں اگلی نسلیں اپنی پچھلی نسلوں کے احوال پڑھتی ہیں اور زندگی کے تسلسل کو یاد کرکے اپنے حال کو اپنے ماضی سے مربوط کرتی ہیں۔ قبرستان گویا ایک بیٹھا ہوا تجربہ ہے جو آج کے لوگوں کو کل کے لوگوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی داستان سناتا ہے۔ کوئی حاجی یا مکہ کی زیارت کرنے والا جب جنت المعلیٰ کے سامنے پہنچتا ہے تو یہ مقام اس کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے جس راستہ پر وہ چل رہا ہے یہ وہی معلوم اور متعین راستہ ہے جس پر اس سے پہلے بہت سے لوگ چلتے تھے۔ یہ ایک ایسے قافلہ کے گزرنے کے نشانات ہیں جو تاریخ میں اپنی واقعیت ثبت کر چکا ہے نہ کہ ایسا قافلہ جس کے نشانات ماضی کے دھندلے افسانوں میں گم ہو چکے ہوں۔ عرب میں قبروں اور پختہ تعمیرات والے قبرستان نہیں ہوتے۔ وہاں کی قبریں گویا ہموار میدان میں کچھ ابھرے ہوئے نشانات ہوتے ہیں، تقریباً ویسے ہی جیسے ہمارے یہاں کے کسی عام اور غیر پختہ قبرستان میں دکھائی دیتے ہیں۔ جنت المعلیٰ عرب کا ایسا ہی ایک قبرستان ہے۔ جنت المعلیٰ ایک ایسا قبرستان ہے جو انسانی اضافوں سے پاک ہے۔ یہاں فطرت کا سادہ ماحول ہے نہ کہ انسان کا بنایا ہوا مصنوعی ماحول۔
ایک شخص جب جنت المعلیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ذہن تاریخ کے ان معلوم انسانوں کی طرف چلا جاتا ہے جو ہم سے پہلے عرب کی خاک میں پیدا ہوئے اور چلتے اور بولتے ہوئے بالآخر یہاں کی مٹی میں خاموش ہو کر لیٹ گئے۔ 1۔ جنت المعلیٰ میں خاموش ہو جانے والی روحوں میں سے ایک عبدالمطلب (۵۷۹ ۔ ۴۹۶ م) ہیں۔ عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے۔ انھیں نے آپ کا نام " محمد " تجویز کیا جو اس وقت عرب میں ایک نیا نام تھا۔ وہ آٹھ سال کی عمر تک آپ کے کفیل رہے۔ وہ بنو ہاشم کے سردار تھے اور نہایت شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ عبدالمطلب کے زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ ابرہہ (شاہ حبش کی طرف سے صنعاء کا حاکم) ہاتھیوں کی فوج لے کر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues