Al-Risala · June 1981 · page 29

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹

تذکیر القرآن الاعراف ۷ پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس۔ مگر انھوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا۔ پس دیکھو کہ مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔ اور موسیٰ نے کہا اے فرعون، میں پروردگار عالم کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ سزاوار ہوں کہ اللہ کے نام پر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں۔ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں۔ پس تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے۔ فرعون نے کہا، اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اس کو پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ تب موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو یکایک وہ ایک صاف اثر د ہابن گیا۔ اور اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔ چاہتا ہے کہ تم کو تمھاری زمین سے نکال دے۔ اب تمھاری کیا صلاح ہے۔ انھوں نے کہا، موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں ہرکارے بھیجو کہ وہ تمھارے پاس سارے ماہر جادو گر لے آئیں ۱۱۲۔ ۱۰۳ پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی بر تر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ”ظلم“ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے لئے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کر رہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہر ہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھائی گئی ہے۔ یا تحریک کو بد نام کرنے کے لئے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے لئے اٹھے ہیں۔ عوام چونکہ باتوں کا تجزیہ نہیں کر پاتے، اس لئے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعی حق کے خلاف ایسے چھوٹے نکائے نسبت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کر لیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے لئے غیر محفوظ ہو جائے۔

خدا کا دل حق پر ہے۔ اس لئے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ حق و انصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھو دے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہو جائے گا۔

حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طور پر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے بر عکس فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑ کر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سال تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کر سکیں (خروج ۱۷ ، ۴) حضرت موسیٰ اگر چہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادو گروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1981 All issues

Printed page