جنت المعلیٰ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹
مکہ پر حملہ آور ہوا۔ ابرہہ نے مکہ کے باہر پڑاؤ ڈالا۔ اس نے عبدالمطلب کے دوسواونٹ پکڑ والے۔ عبدالمطلب اس سلسلہ میں ابرہہ سے ملنے گئے۔ ابرہہ ان کی پر وقار شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور ان کو اپنے پاس عزت کے ساتھ بٹھایا اور آنے کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے دوسواونٹوں کے لئے آیا ہوں جو آپ کے آدمیوں نے پکڑ لئے ہیں: ابرہہ نے کہا: تم اپنے اونٹوں کے لئے مجھ سے سفارش کرنے آئے ہو اور اس محترم گھر (کعبہ) کے لئے کچھ نہیں کہتے جس کے اوپر تمہاری قومی عزت قائم ہے اور جس کو ڈھانے کے لئے میں یہاں آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: میں اونٹ کا مالک ہوں۔ کعبہ کا مالک خدا ہے، وہ اس کی حفاظت کرے گا (انارب الابل وان للبيت ربا سيمنعه) چنانچہ خدا نے ابرہہ کے عظیم لشکر کو تباہ کر دیا اور وہ کعبہ پر حملہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
عبدالمطلب کا نام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ وہ مقدس گھر ہے جس کا پاسبان خود خدا ہے۔ ۲- اسی طرح جنت المعلیٰ میں ابو طالب دفن ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ عام روایت کے مطابق وہ اگر چہ آپ پر ایمان نہیں لائے مگر انھوں نے اپنے بس بھر آپ کی پوری مدد کی۔ وہ آپ کے دشمنوں کے مقابلہ میں آپ کی چٹان بن گئے۔ انھوں نے اپنے آبائی دین کو نہ چھوڑا ۔ مگر انسانی حیثیت سے آخر وقت تک وہ آپ کا ساتھ دیتے رہے۔ حتی کہ جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بائیکاٹ کیا اور آپ کو مع اپنے خاندان کے ایک خشک پہاڑ کے درہ (شعب ابی طالب) میں محصور ہونا پڑا، اس وقت بھی ابو طالب آپ کے ساتھ رہے۔ اگر چہ یہ تین سال کی مدت اتنی سخت تھی کہ وہ بیمار پڑ گئے اور بالآخر بعثت کے دسویں سال (۶۲۰ ان کا انتقال ہو گیا ۔ ابو طالب نے آپ کے مشن سے اتفاق نہ کرتے ہوئے بھی اپنے بھتیجے کے وہ سارے حقوق مکمل طور پر ادا کئے جو خاندان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے ان پر آتے تھے۔
۳- آمنہ بنت وہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ تھیں ۔ آپ ابھی ماں کے پیٹ میں تھے کہ آپ کے والد عبداللہ (۵۰- ۴۵ ۵) کا انتقال ہو گیا۔ عبداللہ کا نانہال مدینہ (یثرب) میں تھا اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھ سال تھی کہ آپ کی والدہ آپ کو لے کر مدینہ گئیں تا کہ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کر سکیں ۔ ایک مہینہ سے کچھ زیادہ قیام کر کے مکہ واپس آرہی تھیں کہ راستہ میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ آمنہ کی عمر اس وقت قریب ۲۵ سال تھی۔ اس سفر میں آپ کی باندی ام ایمن حبشیہ آپ کے ساتھ تھیں۔ ام ایمن نے کچھ لوگوں کی مدد سے موجودہ جنت المعلیٰ میں ان کو دفن کیا اور آپ کے چھ سالہ بچہ کو ساتھ لاکر ان کے دادا عبدالمطلب کے حوالے کر دیا۔ آمنہ نے تاریخ کے سب سے بڑے انسان کو پیدا کیا، اگر چہ وہ اس کی عظمت کو دیکھنے کے لئے زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکیں۔
۴- حضرت خدیجہ بنت خویلد مکہ کی ایک نہایت شریف اور مالدار خاتون تھیں ۔ ان کے والد خویلد بن اسد ایک اچھے تاجر تھے۔ وہ اپنی لڑکی کے لئے کافی سرمایہ چھوڑ کر مرے۔ پھر خدیجہ کی شادی مکہ کے دو تاجروں سے ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues