ایک طریقہ یہ بھی ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱
ایک طریقہ یہ بھی ہے
نپولین (۱۸۲۱-۱۷۶۹) جب پہلی قید کے بعد جزیرہ البا (Elba) سے بھاگا تو اس کے ساتھ اس کے وفادار سپاہیوں کی صرف ایک مختصر جماعت تھی۔ اس معزول تاجدار کے عزائم یہ تھے کہ وہ فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کرے۔ مگر پہلے ہی معرکہ میں اس کو فرانس کے ۲۰ ہزار جوانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نپولین دنیا کے انتہائی بہادر انسانوں میں سے ایک ہے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا کہ اپنی فوجی کمی کا لحاظ نہ کرتے ہوئے حریف سے ٹکرا جائے۔ جب دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے تو وہ اکیلا بالکل غیر مسلح حالت میں اپنی جماعت سے نکلا اور نہایت اطمینان کے ساتھ فریق مخالف کی صفوں کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولے اور اپنے سینہ کو ننگا کر دیا۔ اس کے بعد جذباتی انداز میں اپنے مخالف سپاہیوں سے، جن میں سے اکثر اس کے ماتحت رہ چکے تھے، خطاب کر کے بولا:
”تم میں سے کون وہ سپاہی ہے جو اپنے باپ کے ننگے سینہ پر فائر کرنے کو تیار ہو“ اس کا اثر یہ ہوا کہ ہر طرف سے ”کوئی نہیں، کوئی نہیں“ کی آوازیں بلند ہونے لگیں، تمام سپاہی مخالف جماعت کو چھوڑ کر نپولین کے جھنڈے کے نیچے آگئے۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ نپولین اپنی بے سرو سامانی کے باوجود فاتح ہوا۔ اس نے ملک فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ جس بے سرو سامانی کی حالت میں تھا، اس کے ساتھ اگر وہ فرانس کی فوجوں سے لڑ جاتا تو میدان جنگ میں شاید اس کی لاش تڑپتی ہوئی نظر آتی۔ آدمی کے پاس کتنا ہی ساز و سامان ہو لیکن خطرہ پیش آنے کی صورت میں اگر وہ گھبرا اٹھے تو اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ صورت حال کے بارے میں سوچے اور مقابلہ کے لئے اپنا منصوبہ بنائے۔ اس کے برعکس اگر وہ خطرہ کے وقت اپنے ذہن کو حاضر رکھے تو بہت جلد ایسا ہو گا کہ وہ خطرہ کی اصل نوعیت کو سمجھ لے اور اپنے ممکن ذرائع کو بروقت استعمال کر کے کامیاب رہے۔
تاریخ میں بار بار کم تعداد اور کم طاقت والوں نے زیادہ تعداد اور زیادہ طاقت والوں پر کامیابی حاصل کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمن ہمیشہ اس سے بہت کم طاقت ور ہوتا ہے جتنا کہ وہ بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ اس دنیا کا نظام کچھ اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ کوئی شخص یا گروہ خواہ کتنا ہی طاقت ور ہو جائے اس کے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری موجود رہتی ہے۔ اسی کمزوری کو استعمال کرنے کا نام دشمن پر فتح حاصل کرنا ہے۔ کسی شخص کی واحد طاقت اس کے فریق کی کمزوری ہے، اور یہ طاقت ہمیشہ ہر ایک کو حاصل رہتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس ہوشیاری کا ثبوت دے سکے کہ وہ اپنے حریف کی کمزوری کو استعمال کرنا جانتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues