Al-Risala · July 1981 · page 12

اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۲

اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے

ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص اس بات کو نہیں مانتا تھا کہ خدا رازق ہے اور وہی آدمی کو کھلاتا ہے۔ اس کے ساتھی اس کو سمجھاتے مگر وہ نہ مانتا۔ آخر اس نے کہا کہ میں اس کا تجربہ کروں گا۔ چنانچہ ایک روز وہ بالکل سویرے گھر سے نکلا اور جنگل میں جاکر ایک درخت کے اوپر بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: اگر کھلانے والا خدا ہے تو وہ ضرور یہاں بھی میرا رزق بھیجے گا۔

وہ سارا دن پیڑ پر بیٹھا رہا مگر خدا کی طرف سے اس کا کھانا نہ آیا۔ صبح ناشتہ کا وقت گزرا ۔ پھر دو پہر کے کھانے کا وقت گزر گیا۔ اس کے بعد شام آئی اور شام کے کھانے کا وقت بھی گزرگیا اور اس کا کھانا نہ آیا۔ اب اس کو یقین ہو گیا کہ یہ بات غلط ہے کہ خدا کھلاتا ہے۔ اتنے میں اس کو کچھ آدمی آتے ہوئے نظر پڑے۔ وہ مسافر تھے اور انھیں کسی درخت کی تلاش تھی جس کے نیچے وہ رات گزار سکیں ۔ انھوں نے ادھر ادھر دیکھنے کے بعد اُسی درخت کو پسند کیا جس کے اوپر مذکورہ شخص بیٹھا ہوا تھا۔ درخت پر بیٹھے ہوئے آدمی نے بالکل خاموشی اختیار کرلی کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔ مسافروں نے پڑاؤ ڈالنے کے بعد لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اپنی گٹھڑی کھولی اور چاول دال نکال کر کھچڑی پکانے لگے۔ جب کھچڑی تیار ہوگئی تو انھوں نے سوچا کہ اس کو بُجھارکھی دے دیں۔ تیل میں مرچا ڈال کر جب انھوں نے گرم کیا تو اس کا دھواں اوپر اٹھا اور درخت پر بیٹھے ہوئے آدمی تک پہنچا۔ اس کی وجہ سے اس کو چھینک اور کھانسی آگئی۔ کھانسی کی آواز سن کر مسافروں کو معلوم ہوا کہ درخت کے اوپر بھی کوئی آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ انھوں نے اس کو آواز دے کر بلایا اور اس کو درخت سے اتار کر اپنے کھانے میں شریک کر لیا۔ صبح کو آدمی خوش خوش اپنے گھر واپس آیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم نے جو بات کہی وہ صحیح تھی ۔ مگر تم لوگوں نے مجھے آدھی بات بتائی۔ بے شک خدا کھلاتا ہے مگر وہ کھانسی آنے کے بعد کھلاتا ہے۔ اس لطیفہ میں تمثیل کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے کہ آدمی جو کچھ پاتا ہے وہ خدا کے دئے سے پاتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ اسے اپنا بھی ایک حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ خدا اسی کو دیتا ہے جو خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شریک کرے۔ انسان کی شرکت اگر چہ پورے واقعہ کا بے حد جزئی حصہ ہوتی ہے۔ مگر وہ بہر حال ضروری ہے۔ اس دنیا میں آدمی اس کا ثبوت دئے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔ یہی دینا تو پانے کا امتحان ہے۔ اسی شرط پر پانے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔ پھر اپنی طرف سے دینے کی شرط پوری کئے بغیر کوئی شخص خدا کے یہاں پانے والوں کی فہرست میں کس طرح شامل ہو سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page