Al-Risala · July 1981 · page 13

بہادری یہ ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳

بہادری یہ ہے

حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علی چوتھے خلیفہ مقرر ہوئے۔ اس وقت ملکی انتظام منتشر ہو رہا تھا۔ حضرت علی نے نظم و نسق کو از سر نو درست کرنے کے لئے حضرت عثمان کے عمال بدل دئے۔ امیر معاویہ شام کے عامل (گورنر) چلے آ رہے تھے۔ حضرت علی نے ان کی جگہ سہل بن حنیف کو حکومت شام کا فرمان دے کر روانہ کیا۔ وہ تبوک پہنچے تھے کہ امیر معاویہ کے سواروں نے روکا اور سہل کو مدینہ واپس ہونے پر مجبور کیا۔ حضرت علی نے امیر معاویہ کو لکھا کہ مہاجرین و انصار نے اتفاقِ عام کے ساتھ میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ اس لئے تم یا تو میری اطاعت کرو یا جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اس کے بعد مزید اسباب جمع ہوتے گئے، یہاں تک کہ جمل اور صفین کی لڑائیاں پیش آئیں جن میں تقریباً ۸۰ ہزار مسلمان خود مسلمانوں کی تلوار سے ہلاک ہو گئے۔

جنگ صفین (۳۷ھ) کے آخر زمانہ کا واقعہ ہے۔ حضرت علی فوج کے آگے تھے۔ وہ صفوں کو چیرتے ہوئے امیر معاویہ کے مقصورہ تک پہنچ گئے۔ انہوں نے پکار کر کہا ”معاویہ، خلق خدا کا خون کیوں بہاتے ہو۔ آؤ ہم تم لڑ کر باہم فیصلہ کرلیں“۔ امیر معاویہ کے ساتھی عمرو بن العاص نے کہا: بات تو انصاف کی ہے۔ امیر معاویہ نے کہا: کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو اس شخص سے مقابلہ کرتا ہے وہ زندہ نہیں بچتا۔ عمرو بن العاص نے دوبارہ کہا: جو کچھ بھی ہو، تم کو مقابلہ کے لئے نکلنا چاہئے۔ امیر معاویہ نے کہا: تم چاہتے ہو کہ مجھ کو مروا کر میرے منصب پر قابض ہو جاؤ۔

امیر معاویہ جب سامنے نہیں آئے تو عمرو بن العاص خود حضرت علی سے مقابلہ کے لئے نکلے۔ دیر تک دونوں میں شمشیر زنی کا مقابلہ ہوتا رہا۔ آخر حضرت علی نے ایسا سخت وار کیا جس سے بچنا ممکن نہ تھا۔ عمرو بن العاص بد حواس ہو کر اپنے گھوڑے سے لڑکھڑائے اور زمین پر اس طرح گر پڑے کہ ان کا جسم ننگا ہو گیا۔ حضرت علی نے جب عمرو بن العاص کو برہنہ حالت میں زمین پر پڑا ہوا دیکھا تو اپنا منہ پھیر لیا اور ان کو چھوڑ کر اپنی فوج میں واپس آگئے۔

عمرو بن العاص بے حد ہوشیار آدمی تھے۔ وہ امیر معاویہ کے دست راست تھے۔ حضرت علی اس وقت عمرو بن العاص کا خاتمہ کر کے امیر معاویہ کی مخالفانہ مہم کا خاتمہ کر سکتے تھے۔ مگر حریف کو برہنہ حالت میں دیکھ کر انہیں شرم آگئی۔ اپنے سخت ترین مد مقابل پر پوری طرح قابو پانے کے باوجود وہ اس کو چھوڑ کر چلے آئے۔ ان کی بہادری نے گوارا نہ کیا کہ وہ عاجز حریف کو اپنی تلوار کا نشانہ بنائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page