Al-Risala · July 1981 · page 31

مشورہ پر اصرار نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱

تذکیر القرآن الاعراف ۷ پھر ہم نے ان کے اوپر طوفان بھیجا اور ٹڈی اور جوئیں اور مینڈک اور خون۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ دکھائیں۔ پھر بھی انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ اور جب ان پر کوئی عذاب پڑتا تو کہتے اے موسیٰ، اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کرو جس کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم پر سے اس عذاب کو ہٹا دو تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دیں گے۔ پھر جب ہم ان سے دور کر دیتے آفت کو کچھ مدت کے لئے جہاں بہرحال انھیں پہنچنا تھا تو اسی وقت وہ عہد کو توڑ دیتے ۱۳۵۔ ۱۳۲ حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً ۴۰ سال تک پیغمبری کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طور پر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس لئے قبطی حکمران نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔

حضرت موسیٰ نے ابتداء جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دے تو فرعون اور اس کے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ یہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں (۱۱۰) یہ بات سراسر بے معنی تھی۔ کیونکہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس لئے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔

مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کر دیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہو گئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کو دنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہو گیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب و غریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسیٰ کے ساتھ جانے دیں گے۔ حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنی آنے لگی۔ آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتا ہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کر دیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھنے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کا نام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page