مشورہ پر اصرار نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲
الاعراف ۷ تذکیر القرآن پھر ہم نے ان کو سزا دی اور ان کو سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروا ہو گئے ۔ اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو ہم نے میں سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی ۔ اور بنی اسرائیل پر تیرے رب کا نیک وعدہ پورا ہو گیا بہ سبب اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا جو وہ بناتے تھے اور جو وہ چڑھاتے تھے ۔ ۷/۱۳۶-۱۳۷ انبیاء کی مخاطب قوموں پر جو عذاب آتا ہے وہ تکذیب آیات کی بنا پر آتا ہے۔ یعنی نشانیوں کو جھٹلانا۔ اس کے مقابلہ میں انبیاء کے ساتھیوں پر جو خصوصی نصرت اترتی ہے اس کا استحقاق ان کو صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی اپنے جذبات کو تھام کر اللہ کے طریقہ پر ثابت قدم رہنا۔
نشانیوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو حق کو حق ثابت کرنے والے ہوتے ہیں مگر آدمی اپنی متکبرانہ نفسیات کی وجہ سے ان کو ماننے پر قادر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کے معاملہ کو دلیل پیش کرنے والے کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے یہ دلیل مان لی تو فلاں شخص کے مقابلہ میں میرا مرتبہ گھٹ جائے گا۔ وہ دلیل پیش کرنے والے کے مقابلہ میں اپنے کو بالا رکھنے کی خاطر دلیل کی بالاتری کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہی انسان کی آزمائش کا اصل مقام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نشانیوں یا دلائل کے پردہ میں ظاہر ہوتا ہے، آخرت میں وہ بے حجاب ہو کر ظاہر ہو جائے گا۔ مگر ایمان وہی معتبر ہے جب کہ آدمی پردہ داری کے ساتھ ظاہر ہونے والے حق کو پالے ۔ بے حجابی کے ساتھ ظاہر ہونے والے حق کو ماننا صرف آدمی کے جرم کو ثابت کرے گا نہ کہ وہ اس کو انعام کا مستحق بنائے۔ ایسا اقرار صرف اس بات کا ثبوت ہو گا کہ آدمی نے اپنی بے پروائی کی وجہ سے حق کو نہ جانا۔ اگر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتا تو یقیناً وہ اس کو جان لیتا۔
اس کے مقابلہ میں خدا کے وفادار بندے ہی ہیں جن کی سب سے نمایاں خصوصیت صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی زندگی سراسر صبر کی زندگی ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی زبان سے حق کا اعلان سن کر اس کو مان لینا، عادتوں اور مصلحتوں پر قائم شدہ زندگی کو حق اور اصول کی بنیاد پر قائم کرنا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں کو خدا کی خاطر نظر انداز کرنا، حق کے مخالفین کی ڈالی ہوئی مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہونا، یہ سب ایمان کے کے لازمی مراحل ہیں اور آدمی صبر کے بغیر ان مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔
فرعون کو اپنے اقتدار پر اور اپنے باغوں اور عمارتوں پر گھمنڈ تھا۔ حضرت موسیٰ کی ہجرت کے بعد فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ اولوں اور ٹڈیوں نے مصر کے سر سبز و شاداب باغات کو اجاڑ دیا اور زلزلوں نے ان کی شان دار عمارتیں ڈھا دیں۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ کی چند نسلوں کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے کے زمانہ میں بنی اسرائیل اطراف مصر (شام و فلسطین) پر قابض ہو گئے ۔ نشانیوں کو جھٹلانے والے ہمیشہ خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں اور صبر کرنے والے ہمیشہ خدا کی نصرت کے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues