Al-Risala · July 1981 · page 23

مشورہ پر اصرار نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳

تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا۔ پھر ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا، جو پوجنے میں لگ رہے تھے اپنے بتوں کے۔ انھوں نے کہا، اے موسیٰ، ہماری عبادت کے لیے بھی ایک بت بنا دے جیسے ان کے بت ہیں۔ موسیٰ نے کہا، تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ باطل ہے۔ اس نے کہا، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمھارے لیے تلاش کروں حالاں کہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی ہے۔ اور جب ہم نے فرعون والوں سے تم کو نجات دی جو تم کو سخت عذاب میں ڈالے ہوئے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے تمھاری بڑی آزمائش تھی (۱۳۸-۱۴۱)۔

بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کر کے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے ۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے، بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے لئے ایک بت بنا دیا جائے۔

آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا، اس لئے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنا لیتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے یعنی ہمارا مشن تو یہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کر دیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے لئے گھڑ لیں۔

"بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی" سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبى فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ تم خیر امت ہو، اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیا گیا ہے ۔

فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے لئے بطور آزمائش تھا نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس لئے ہوتی ہے کہ اہل ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتا ہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page