Al-Risala · July 1981 · page 24

مشورہ پر اصرار نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۴

تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا، میرے پیچھے تم میری قوم میں جانشینی کرنا، اصلاح کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔ اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھادے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے‘ تو تم بھی مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ ۱۴۳-۱۴۲ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلا حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک کئے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔ حضرت موسیٰ کو مصر میں دعوتی احکام دئے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلا کر قانونی احکام دئے گئے، اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو ست کریں اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید و آخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور با اختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہو جاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔ حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لئے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا: اصلح ولا تتبع سبيل المفسدين (۱۴۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی سربراہ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ وہ ہے۔ اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے ۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہئے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو از روئے عدل اس سے چھینا جانا چاہئے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر اس وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار در مفسدین کی پیروی کرنے لگے۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔

حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page