Al-Risala · July 1981 · page 25

مشورہ پر اصرار نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵

تذکیر القرآن الاعراف ۷ اللہ نے فرمایا، اے موسیٰ میں نے تم کو لوگوں پر اپنی پیغمبری اور اپنے کلام کے ذریعہ سے سرفراز کیا۔ پس اب لو جو کچھ میں نے تم کو عطا کیا ہے۔ اور شکر گزاروں میں سے بنو۔ اور ہم نے اس کے لئے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ وی۔ پس اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔ عنقریب میں تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔ ۱۴۴-۱۴۵ حضرت موسیٰ کو پہلی بار نبوت پہاڑ کے اوپر ملی تھی اور دوسری بار بھی تو رات کے احکام ان کو پہاڑ پر بلا کر دئے گئے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ خدا کا فیضان حاصل کرنے کی سب سے زیادہ موزوں جگہ فطرت کا ماحول ہے نہ کہ انسانی آبادیوں کا ماحول۔ انسانوں کی پر شور دنیا سے نکل کر آدمی جب پتھروں اور درختوں کی خاموش دنیا میں پہنچتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ مصنوعی احساسات سے خالی ہو کر اپنی فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ کسی آدمی کے لئے بہترین لمحہ ہوتا ہے جب کہ وہ بے آمیز فطری انداز میں سوچے اور یک سو ہو کر اپنے رب سے جڑ سکے۔

پیغمبر عام انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے ۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہوتا ۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائشی استعداد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اس لئے خدا اس کو چنتا ہے کہ وہ اس کے پیغام کا حامل بنے اور لوگوں کے درمیان اس کی قابلِ اعتماد نمائندگی کرے۔ حضرت موسیٰ اس وقت اپنی قوم کے بہترین شخص تھے اس لئے خدا نے ان کو اپنا پیغمبر چنا اور ان پر اپنا کلام اتارا۔ خدا کے کام میں اگر چہ ہدایت ۔ بہ حق ہر قسم کی ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے مگر وہ الفاظ میں ہوتی ہے اور موجودہ امتحانی دنیا میں بہر حال اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی ان الفاظ کی غلط تشریح کر کے اس کو غیر مطلوب معنی پہنا دے۔ مگر جو شخص ہدایت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو اور خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو وہ ان الفاظ سے وہی معنی لے گا جو کلام الہی کے شایانِ شان ہے نہ کہ وہ جو اس کے نفس کو مرغوب ہے۔

"میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا “، یعنی اپنے اس سفر میں آگے چل کر تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزرو گے جنہیں اس سے پہلے خدا کی ہدایت دی گئی تھی۔ مگر وہ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ حالات کے دباؤ یا جذبات کے میلان کو نظر انداز کر کے وہ اس پر ٹھیک طرح قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ہلاک کر دئے گئے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارا انجام بھی دنیا د آخرت میں وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا۔ خدا کا معاملہ جیسا ایک قوم کے ساتھ ہے ویسا ہی معاملہ دوسری قوم کے ساتھ ہے۔ عدل الہی کی میزان میں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر حسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کر دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page