مشورہ پر اصرار نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶
میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق گھمنڈ کرتے ہیں۔ اور اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں ۔ اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو نہ اپنا لیں گے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنائیں گے۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کی طرف سے اپنے کو غافل رکھا۔ اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال اکارت ہو گئے اور وہ بدلے میں وہی پائیں گے جو وہ کرتے تھے ۔ (۱۳۶-۱۳۷)
دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنے آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ دنیا میں بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو جو سبق دیں گی وہ ان کو پالے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہو۔ وہ زمین میں اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اس کا مالک ہے، اس کو اپنے ذاتی داعیات کے سوا کسی اور چیز کی پروا نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہو کہ یہاں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اپنی لیاقت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اپنی ملی ہوئی چیزوں میں اس کو کسی اور کی مرضی کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دوسرے آدمی کا استغفار اس کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے گا۔
پہلے آدمی کی نفسیات لینے والی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے خدا کے ہر اشارہ کو پڑھ لیتا ہے۔ اور فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے آدمی کی نفسیات سینے نیازی کی نفسیات ہوتی ہے۔ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے سامنے قدرت خاموش زبان میں اپنا نغمہ چھیڑتی ہے مگر وہ اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس کو اپنے سے باہر کسی سچائی کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ ـــــــــــــ موت کے بعد آنے والی دنیا صرف پہلے لوگوں کے لئے ہے۔ دوسرے لوگ خدا کی ابدی دنیا میں اسی طرح نظر انداز کر دئے جائیں گے جس طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ خدا کی بات کو نظر انداز کئے ہوئے تھے۔
گمراہی کا راستہ نفس کے محرکات کے تحت بنتا ہے اور ہدایت کا راستہ وہ ہے جو نفس اور ماحول کے اثرات سے اوپر اٹھ کر خالص خدا کے لئے وجود میں آتا ہے۔ اب جو لوگ اپنی ذات کی سطح پر جی رہے ہوں، جو صرف اپنے نفس کے اندر ابھرنے والے داعیات کو جانتے ہوں وہ گمراہی کے راستہ کو عین اپنی چیز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ ہدایت کا راستہ ان کو اپنے مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس لئے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔
بڑائی کی نفسیات اس چیز کو با آسانی قبول کر لیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues