مشورہ پر اصرار نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷
اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنایا ، ایک دھڑ جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے اور نہ کوئی راہ دکھاتا ہے۔ اس کو انھوں نے معبود بنا لیا اور وہ بڑے ظالم تھے۔ اور جب وہ پچھتائے اور انھوں نے محسوس کیا کہ وہ گمراہی میں پڑ گئے تھے تو انھوں نے کہا، اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہم کو نہ بخشا تو یقیناً ہم برباد ہو جائیں گے۔ اور جب موسیٰ رنج اور غصہ میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا، تم نے میرے بعد میری بہت بری جانشینی کی۔ کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلدی کر لی۔ اور اس نے تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچنے لگا۔ ہارون نے کہا، اے میری ماں کے بیٹے، لوگوں نے مجھے دبالیا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں ۔ پس تو دشمنوں کو میرے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دے اور مجھے کو ظالموں کے ساتھ شامل نہ کر۔ موسیٰ نے کہا، اے میرے رب معاف کر دے مجھ کو اور میرے بھائی کو اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ ۱۵۱ ۔ ۱۴۸ بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا- حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق۔ بچھڑے کی یہ صورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز آئے ۔ لوگ عام طور پر عجیب و پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کر لیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلا ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرات کر سکتا ہے۔
عوام کا ذوق ہر زمانہ میں وہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے ۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی "خوار" پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتا ہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت ۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا یہی انجام ہوتا ہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔ حضرت موسیٰ نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میں انھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنی اصلاح کی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی قرآن کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لئے اور حضرت ہارون کے لئے خدا سے دعا کرنے لگے ۔ ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues