مشورہ پر اصرار نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸
تذکیر القرآن الاعراف ۰۰ بے شک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا، ان کو ان کے رب کا غضب پہنچے گا اور ذلت دنیا کی زندگی میں۔ اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جھوٹ باندھنے والوں کو۔ اور جن لوگوں نے برے کام کئے بعد اس کے بعد تو بہ کی ۔ اور ایمان لائے تو بے شک اس کے بعد تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے ۱۵۳-۱۵۲ بنی اسرائیل کے بچھڑا اپنانے کو یہاں افتراءءء (جھوٹ باندھنا) کہا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ باطل کام حق کے نام پر کیا تھا۔ انھوں نے اپنا یہ کام خدا کے دین کا انکار کر کے نہیں کیا تھا بلکہ خدا کے دین کو مانتے ہوئے کیا تھا۔ اپنی اس بے دینی کو وہ دینی الفاظ میں بیان کرتے تھے پیشہ کین کے عام عقیدہ کی طرح ، وہ کہتے تھے کہ خدا ان کی گھڑی ہوئی مورت میں حلول کر آیا ہے۔ اس لئے اس کی عبادت خود خدا کی عبادت کے ہم معنی ہے۔ حتی کہ اس فعل کے لیڈر سامری نے اس کے حق میں کشف و کرامت کی دلیل بھی تلاش کر لی۔ اس نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ جبریل آئے ہیں اور میں نے ان کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی تو مقدس مٹی کی برکت سے وہ بچھڑا بولنے لگا۔ گویا سامری کی اتر اس کے ساتھی خدا کی طرف ایسی بات منسوب کر رہے تھے جو خدا نے خود نہیں بتائی تھی ۔ اس قسم کی نسبت افترا (خدا پر جھوٹ باندھنا) ہے خواہ وہ ایک صورت میں ہو یا دوسری صورت میں۔
کوئی حامل دین گروہ جب اس قسم کا افترا کرتا ہے، وہ بے دینی کے فعل کو دین کا نام دے دیتا ہے، تو یہ چیز خدا کے غضب کو شدید طور پر بھڑکا دیتی ہے۔ اس کے متعلق یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کو آخرت سے پہلے دنیا کی زندگی ہی میں رسواکن سزا دی جائے ۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ دنیوی سزا اس صورت میں آئی کہ حضرت موسیٰ کے حکم پر قبیلہ کے مخلص ذمہ داروں نے اپنے اپنے قبیلہ کے ان افراد کو پکڑا جنہوں نے بچھڑا اپنانے کے اس کام میں حصہ لیا تھا اور اس فتنہ میں براہ راست شریک رہے تھے۔ اس کے بعد ہر قبیلہ کے افراد نے خود اپنے ہاتھ سے اپنے قبیلہ کے مجرمین کو قتل کر دیا۔ اس دردناک انجام سے صرف وہ لوگ بچے جو اپنے اس فعل پر سخت شرمندہ ہوئے اور انھوں نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے توبہ کی ۔
بنی اسرائیل کے جرم پر خدا نے جس سزا کا فیصلہ کیا اس کا نفاذ خود ان کی اپنی تلواروں کے ذریعہ کیا گیا۔ تاہم اس قسم کے فیصلے کا نفاذ کبھی اغیار کی تلواروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اور اغیار کی تلواروں سے اس کا نفاذ اس وقت ہوتا ہے جب کہ سزا کے ساتھ رسوائی کو بھی شامل کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔
گناہ پر تو بہ یہ ہے کہ گناہ ہو جانے کے بعد آدمی اپنے اس فعل پر شدید شرمندہ ہو۔ توبہ کی اصل حقیقت شرمندگی ہے۔ یہ شرمندگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود سے فیصلہ کرے کہ آئندہ وہ ایسا فعل نہ کرے گا۔ کوئی گناہ گار جب اس طرح شرمندگی کا اور آئندہ کے لئے پرہیز کے عزم کا ثبوت دے دیتا ہے تو گویا کہ وہ دوبارہ ایمان لاتا ہے، دین کے دائرہ سے نکل جانے کے بعد وہ دوبارہ خدا کے دین میں داخل ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues