مشورہ پر اصرار نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹
تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تو اس نے تختیاں اٹھائیں اور جو ان میں لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت کے لئے۔ پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا اے رب، اگر تو چاہتا تو پہلے ہی تو ان کو ہلاک کر دیتا اور مجھ کو بھی۔ کیا تو ہم کو ایسے کام پر ہلاک کرے گا جو ہمارے اندر کے بیوقوفوں نے کیا۔ یہ سب تیری آزمائش ہے تو اس سے جس کو چاہے گمراہ کر دے اور جس کو چاہے ہدایت دے۔ تو ہی ہمارا تھامنے والا ہے۔ پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔ اور تو ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ اللہ نے کہا: میں اپنا عذاب اسی پر ڈالتا ہوں جس کو چاہتا ہوں، اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو۔ پس اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں ۱۵۶- ۱۵۳ : بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہئے۔ چنانچہ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے ستر نمائندہ افراد کو لے کر دربار کوہ طور پر گئے۔ وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعہ ایسے حالات پیدا کئے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت و خشیت پیدا ہو۔ چنانچہ اس کے بعد وہ خدا کے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ انھوں نے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔
اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی " اے ہمارے رب، ہمارے لئے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے " اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا "میں جس پر چاہتا ہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے" حضرت موسیٰ کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے لئے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کر دیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے لئے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اگر چہ میں تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں ۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔
خدا کی کتاب ہدایت و رحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے لئے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ڈر، رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتا ہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کامرکز بن جاتا ہے۔ ان کا سب کچھ خدا کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کر دیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پر دے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues