Al-Risala · July 1981 · page 30

مشورہ پر اصرار نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

تذکیر القرآن الاعراف ۷ جو لوگ پیروی کریں گے اس رسول کی جو نّبی اُمّی ہے، جس کو وہ اپنے یہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور ان کو برائی سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاکیزہ چیزیں جائز ٹھہراتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتارتا ہے جو ان پر تھیں۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی عزت کی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں بنی اسرائیل دیکھتے چلے آ رہے تھے کر جتنے نبی آتے ہیں، وہ سب ان کی اپنی قوم میں آتے ہیں۔ آخری رسول خدا کے منصوبہ کے مطابق، بنی اسماعیل میں آنے والا تھا اس لئے خدا نے بنی اسرائیل کے انبیاء کے ذریعہ انتیس پہلے سے اس کی خبر کر دی۔ ان کی کتابوں میں کثرت سے اس کی پیشین گو ئیاں ابھی تک موجود ہیں۔ ایسا اس لئے ہوا تا کہ جب آخری رسول آئے تو وہ کسی بڑے فتنہ میں نہ پڑیں اور بہ آسانی اس کو پہچان کہ اس کے ساتھی بن جائیں۔ پیغمبر اسلام پڑھے لکھے نہ تھے۔ آپ اُمّی رسول تھے۔ اُمّیت کے ساتھ پیغمبری، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آخری اور انتہائی صورت میں جمع ہوئی، یہی ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ معرفت خداوندی کا اظہار ہمیشہ " اُمّیت " کی سطح پر ہوتا ہے۔ یعنی وہ کسی ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جو دنیوی معیار کے لحاظ سے اس قسم کے عظیم کام کا اہل نہ سمجھا جاتا ہو۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا نے بقراط اور افلاطون کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہو۔

دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری مو شگافیاں کر کے نئے نئے مسائل بنائے جاتے ہیں۔ روحانیت کے نام پر مشقوں اور ریاضتوں کا ایک پورا ڈھانچہ کھڑا کر لیا جاتا ہے۔ عوامی توہمات مقدس ہو کر نئی شریعت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہود کا یہی حال ہو چکا تھا۔ انھوں نے خدا کے دین کے نام پر توہمات اور جکڑ بندیوں کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنایا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کر کے سادہ اور سچے دین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔ پیغمبر جب آتا ہے تو سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ مگر یہ ایمان عام معنوں میں محض ایک کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ یہ بے روح ڈھانچہ والے دین سے نکل کر زندہ شعور والے دین میں داخل ہونا ہے ۔ سابقہ مذہبی ڈھانچہ سے آدمی کی وابستگی محض تاریخی روایات یا نسلی رواج کے زور پر ہوتی ہے۔ مگر نئے پیغمبر کے دین کو جب وہ قبول کرتا ہے تو وہ اس کو شعوری فیصلہ کے تحت قبول کرتا ہے ، وہ رسم سے نکل کر حقیقت کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ سادہ بات ہر دور میں انسان کے لئے مشکل ترین بات ثابت ہوئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page