Al-Risala · July 1981 · page 31

مشورہ پر اصرار نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱

تذکےر القرآن الاعراف ۷ کہو اے لوگو ، بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ۔ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے ۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے امی رسول و نبی پر جو ایمان رکھتا ہے اللہ اور اس کے کلمات پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق رہنمائی کرتا ہے اور اسی کے مطابق انصاف کرتا ہے ۱۵۹- ۱۵۸ "کہو میں سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں " کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے تمام پیغمبر قومی پیغمبر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین الاقوامی پیغمبر ہیں۔ یہ بات بطور تقابل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بطور واقعہ کہی گئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک براہ راست ، دوسری بواسطہ امت ۔ آپ کی براہ راست بعثت عرب کے لئے تھی (انعام ۹۲) اور آپ کی بالواسطہ بعثت سارے عالم کے لئے ہے (حج ۷۸) حکماً یہی نوعیت خدا کے تمام پیغمبروں کی تھی۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہ سکا اس لئے یہ ممکن نہیں ہوا کہ وہ تمام عالم کے لئے نذیر و بشیر بنتے ۔ آج مسیحیت کی تبلیغ سارے عالم میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود حضرت مسیح کی نبوت صرف فلسطین تک محدود ہو کر رہ گئی۔ کیونکہ حضرت مسیح کے بعد ان کی تعلیمات اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہیں۔ آج مسیحیت کے نام سے جو دین لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ حقیقتہ سینٹ پال کا دین ہے نہ کہ مسیح کا دین ۔ گویا نبیوں کی وسعت کار میں جو فرق ہے وہ فرق باعتبار واقعہ ہے نہ کہ باعتبار تفویض۔ پیغمبر عربی کے متعلق بائبل میں یہ پیشین گوئی ہے کہ زمین کے سب قبیلے اس کے وسیلے سے برکت پائیں گے (پیدائش (۱۲) سب قوموں تک آپ کی برکت پہنچنا اس لئے ممکن ہو سکا کہ آپ کا لایا ہوا دین محفوظ ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کا دین محفوظ نہیں۔ اس لئے بظاہر اس کی آواز سب تک پہنچ کر بھی اس کی برکت سب تک نہ پہنچ سکی۔ عرب میں یہودی قبائل آباد تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو یہ فخر تھا کہ ان کے پاس خدا کی مقدس کتاب ہے یہ لوگ ہمیشہ اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے کے لئے سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ ان کا یہ احساس کہ وہ سب سے بڑی سچائی کو لئے ہوئے ہیں ، ان کے لئے کسی دوسرے کی طرف سے آنے والی سچائی کو قبول کرنے میں مانع ہو جاتا ہے۔ یہی حال یہود کا ہوا۔ ان کی بہت بڑی اکثریت ضد اور تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہو گئی۔ صرف چند لوگ (عبد اللہ بن سلام وغیرہ) ایسے نکلے جنہوں نے کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھا۔ انھوں نے اپنی دنیوی عزت کی پروا کئے بغیر اس کی صداقت کا اعلان کیا اور اپنی دنیوی زندگی کو اس کے حوالے کر دیا۔

" رسول ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات (ارشادات) پر یہ جملہ بتاتا ہے کہ فلسفیوں کے خدا اور پیغمبر کے خدا میں کیا فرق ہے۔ فلسفی کا خدا ایک مجرد روح ہے۔ اس کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے کائنات میں قوت کشش کو ماننا۔ قوت کشش نہ بولتی اور نہ حکم دیتی۔ مگر پیغمبر کا خدا ایک زندہ اور با شعور خدا ہے۔ وہ انسانوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے اور اس حکم کے ماننے یا ماننے پر ہر ایک کے لئے انعام یا سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1981 All issues

Printed page