Al-Risala · August 1981 · page 18

رہنما کی ضرورت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸

اور ہم نے ان کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انھیں الگ الگ گروہ بنادیا۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہرگروہ نے اپناپانی پینے کا مقام معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان پر بدلیوں کا سایہ کیا اور ان پر من وسلوٰی اتارا۔ کھاؤ پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں۔ اور انھوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ خود اپناہی نقصان کرتے رہے۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں جاکر بس جاؤ۔ اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ اور کہو ہم کو بخش دے اور دروازہ میں جھکے ہوئے داخل ہو، ہم تمھاری خطائیں معاف کردیں گے۔ ہم نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے ظالموں نے بدل ڈالا دوسرا لفظ اس کے سوا، جو ان سے کہا گیا تھا۔ پھر ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ وہ ظلم کرتے تھے ۱۶۰-۱۴۲۔

مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے ۔ پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طور پر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے لئے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے لئے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے لئے من وسلویٰ اترا جو بآسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتا تھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے لئے ایک پورا شہر ایسا تھا (دادی یردن میں) ان کے حوالے کر دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضروریات کا ہم نے انتظام کر دیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔ "باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو"، یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کا گھر) کہا جاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہا جاتا ہے۔ یہود کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجز و تواضع کے ساتھ داخل ہوکر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کے عظمت و جلال کو یاد کر کے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے دہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔

یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page