رہنما کی ضرورت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹
اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو دریا کے کنارے تھی۔ جب وہ سبت (سنیچر) کے بارے میں تجاوز کرتے تھے۔ جب ان کے سبت کے دن ان کی مچھلیاں پانی کے اوپر آتیں اور جس دن سبت نہ ہوتا تو نہ آئیں۔ ان کی آزمائش ہم نے اس طرح کی، اس لئے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ انھوں نے کہا، تمھارے رب کے سامنے الزام اتارنے کے لئے اور اس لئے کہ شاید وہ ڈریں ۱۴۱۔ ۱۶۳ یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکر خدا کے لئے خاص رکھیں ۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج ۳۱) مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے ۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے لئے ہوتا ہے مگر وہ خود اپنے لئے کیا جاتا ہے، اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھہر جائے گا، وہ اپنے اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔
یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے لئے اور سخت کر دیا گیا۔ بحر قلزم کی مشرقی خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں ۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آئیں ۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔
یہ یہود کے لئے بڑی سخت آزمائش تھی ۔ گو یا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے لئے باقی رہ گیا ۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کر لیں گے ۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے ۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں ۔ اس کے بعد وہ حوض کا منہ بند کر کے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے ۔ پھر اگلے دن اتوار کو جا کر ان کو پکڑ لیتے ۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے لئے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کر دیا جائے اور ناجائز ذریعہ کے سوا اس کے لئے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues