Al-Risala · August 1981 · page 20

رہنما کی ضرورت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰

پھر جب انھوں نے بھلا دی وہ چیز جوان کو یاد دلائی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ پھر جب وہ بڑھنے لگے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ 166 - 165 ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کر کے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہو جاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے لئے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتے ہیں۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا گیا۔ "اللہ نے ان کو بندر بنا دیا" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہو گئی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اخلاق بندروں جیسا ہو گیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہو گئے (قیل بل جعل اخلا فہم کا خلاقھا وان لم تکن صورتہم كصورتھا، مفردات امام راغب ۔ روى عن مجاهد انه إنما مسخت قلوبهم و ردت افهامهم کا فہام القردة ، تفسیر قرطبی)

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل و ضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کر دیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے لئے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس بندر کا حال یہ ہے کہ اس کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو کر ڈالتا ہے۔ اس کو نہ اپنی خواہش کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔ اب انسان کا بندر ہو جانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنی ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہو جائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں ۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کر گزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کر دے، کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے لئے کھڑا ہو جائے۔ کسی سے اختلاف ہو جائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کر دے ۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگائے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے لئے کہے۔

برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلان برأت ہے۔ اس لئے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچائے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بیزار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page