Al-Risala · August 1981 · page 21

رہنما کی ضرورت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱

تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور جب تمھارے رب نے اعلان کر دیا کہ وہ یہود پر قیامت کے دن تک ضرور ایسے لوگ بھیجتا رہے گا جوان کو نہایت برا عتاب دے۔ بے شک تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ہم نے ان کو گروہ گروہ کر کے زمین میں متفرق کر دیا ۔ ان میں کچھ نیک ہیں اور ان میں کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم نے ان کی آزمائش کی اچھے حالات سے اور برے حالات سے تاکہ وہ باز آئیں ۱۶۷ ان آیات میں یہود کے لئے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الی یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔

کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی ۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز کیا تھا۔ چنانچہ آخرت کے وعدہ کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات دئے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل نافرمانی کی۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے ان کو منصب فضیلت سے ہٹا دیا ۔ ان کے لئے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کا مزہ چکھتے رہیں گے۔ اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے، ان پر ”حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے لئے ایک قسم کا عذاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔

ان آیات میں یہود کے لئے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلط کی جائیں گی جو ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بخت نصر اور کبھی تیتس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ کبھی وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں دئے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلایا تو ہٹلر نے انھیں تباہ و برباد کر ڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طور پر ہلاک کی جانے والی ہے۔

دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ ”تقطیع “ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر کر دینا۔ یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار باران کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔

اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے لئے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے لئے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار و مشرکین نے ان پر غلبہ پا لیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹنا چاہئے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الہیٰ کی زد میں آگئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page