Al-Risala · August 1981 · page 27

الاعراف ۷

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷

تذکیر القرآن الاعراف ۷ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے ۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اس کو ایک ہلکا سا حمل رہ گیا ۔ پھر وہ اس کو لئے پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی ، اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم تیرے شکر گزار رہیں گے۔ مگر جب اللہ نے ان کو تندرست اولاد دے دی تو وہ اس کی بخشی ہوئی چیز میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا وہ شریک بناتے ہیں ایسوں کو جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ اور وہ نہ ان کی کسی قسم کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں ۔ اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لئے پکارو تو وہ تمھاری پکار پر نہ چلیں گے۔ برابر ہے خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے ہی جیسے بندے ہیں۔ پس تم ان کو پکارو، وہ تمھیں جواب دیں اگر تم سچے ہو ۱۴ ۱۹ - ۱۸۹ کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزا ر الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کل بن جاتے ہیں۔ ان میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق و مالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھئے ۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتا ہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود ۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہو جاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اُس کے لئے پیدا کیا گیا ہوں اور وہ میرے لئے۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں " وحدت" کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہو گیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ یا مردہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کر دیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصورت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page