Al-Risala · August 1981 · page 28

الاعراف ۷

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن

کیا ان کے پاؤں ہیں کہ ان سے چلیں۔ کیا ان کے ہاتھ ہیں کہ ان سے پکڑیں۔ کیا ان کے آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھیں ۔ کیا ان کے کان ہیں کہ ان سے سنیں۔ کہو ، تم اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ پھر تم لوگ میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے مہلت نہ دو۔ یقیناً میرا کارساز اللہ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ کارسازی کرتا ہے نیک بندوں کی۔ اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا وہ نہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں۔ اور اگر تم ان کو راستہ کی طرف پکارو تو وہ تمھاری بات نہ سنیں گے اور تم کو نظر آتا ہے کہ وہ تمھاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر وہ کچھ نہیں دیکھتے ۱۹۸ - ۱۹۵ بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تا ہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ اُن بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی ، نہ پکڑنے کی ، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کر لیتا ہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔

تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں ہی کا نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتا ہے ان کا حال بھی یہی ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ کئے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہیں ، ان کی حقیقت کیا ہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ”پاؤں “ والے کے پاس دیا ہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ”ہاتھ “ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ”آنکھ “ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے لئے آنکھ تیار کر لے۔

غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میں ہوا ہے ، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا ، اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں ، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page