Al-Risala · January 1981 · page 38

اختلافات کو تحلقات کے بگاڑ تک نہ لے جانا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸

اختلافات کو تحلقات کے بگاڑ تک نہ لے جانا

امام طبری نے روایت کیا ہے کہ ایک بار حضرت خالد بن ولید اور حضرت سعد بن وقاص میں کسی ذاتی معاملہ میں اختلاف ہو گیا۔ اس کے بعد کسی شخص نے حضرت سعد کے سامنے حضرت خالد کا ذکر برے الفاظ میں کرنا چاہا۔ حضرت سعد نے فوراً اس آدمی کو روک دیا اور کہا: اس کو چھوڑو، میرے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے وہ میرے اور ان کے دینی تحلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا (هھ، فان ما بيننا لم يبلغ دیننا، مجمع الزوائد) متحد رہنا اور اقدام میں پہل نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ہجرت کے دسویں سال نجران (یمن) بھیجا۔ انھوں نے وہاں اسلام کی تبلیغ کی۔ خالد بن ولید رض واپس ہوئے تو ان کے ساتھ بنو حارث بن کعب کے لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : جاہلیت کی جنگوں میں تم کس طرح ہمیشہ غالب رہتے تھے۔ انھوں نے کہا: ہم کسی پر غلبہ حاصل نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں، مگر جو تم سے جنگ کرتا تھا، تم اس کے اوپر غالب رہتے تھے۔ انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول جو ہم سے جنگ کرتا تھا ہم اس پر غالب رہتے تھے۔ ہم متحد رہتے تھے کبھی متفرق نہیں ہوتے تھے۔ اور کسی کے اوپر ظلم سے آغاز نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا (رکنا تغلب من قاتلنا يارسول الله، انا كنا نجتمع ولا ننا فرق ولا نبدأ أحدا بظلم، قال صدقتم، ابن ہشام، جز وثانی، ۱۳۳) بغض آدمی کے دین کو کھا جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغض مونڈنے والی چیز ہے۔ میں یہ نہیں کہتا وہ بال کو مونڈتا ہے بلکہ وہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے تم جنت میں نہیں داخل ہو سکتے جب تک مومن نہ بنو اور مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ (البغضارھی الحالقة، لا اقول تعلق الشعر ولكن تعلق الدين - والذي نفس محمد بيده لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتى تحابوا، جامع بیان العلم، جزو ثانی، صفحہ ۱۵۰)

بحث و جدال نیکی کو مٹا دیتا ہے

عوام بن حوشب نے کہا: لوگو دین میں جھگڑا کرنے سے بچو کیونکہ دین میں جھگڑا کرنے سے آدمی کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں (عن العوام بن حوشب قال ایاکم والخصومات فی الدین فانها تحبط الاعمال، ابن عبدالبر جامع بیان العلم و فضله، جزو ثانی، صفحه ۹۳)

آپس کا اختلاف نہ ہو تو دشمن کا کوئی خطرہ نہیں

عوف بن مالک کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس امت پر کبھی دو تلواروں کو جمع نہیں کرے گا۔ اس کی اپنی تلوار اور اس کے دشمن کی تلوار

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page