Al-Risala · August 1981 · page 29

الاعراف ۷

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹

تذکیر القرآن الاعراف ۷ درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے نہ الجھو۔ اور اگر تم کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو اللہ کی پناہ چاہو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی براخیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے ۲۰۲ - ۱۹۹ توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا "عرف" کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل و فطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانہ میں مشکل ترین کام رہا ہے۔ انسان کی حب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپنی زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی یہ آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔

ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہئے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طور پر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے نوشوتوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوت حق دعوت حق نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس لئے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔

تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتا ہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتا ہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتا دیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتا ہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کس گڑھے کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page