Al-Risala · August 1981 · page 30

الاعراف ۷

الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

تذکیر القرآن الاعراف ، ۷ اور جب تم ان کے سامنے کوئی نشانی (معجزہ) نہیں لائے تو کہتے ہیں کہ کیوں نہ تم چھانٹ لائے کچھ اپنی طرف سے۔ کہو: میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ یہ سوجھ کی باتیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں ، عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے، اور غافلوں میں سے نہ بنو۔ جو (فرشتے) تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ اور وہ اس کی پاک ذات کو یاد کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے لئے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔

مثلاً فرض کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جدید طرز کی ایک موٹر کار انار دی جاتی جس میں لاؤڈ اسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے لئے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے لئے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرارہ جاتا، اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔

کرشماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرلے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل و دماغ پر اس طرح چھاجائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیدا کردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔

آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس لئے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تا کہ تمہیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتا ہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues

Printed page