الاعراف ۷
الرسالہ، اگست ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱
آيتیں ۵ ، سورۃ الانفال مدنیۃ ۔ ۸ رکوعاتہا ۱۰ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے وہ تم سے انفال (مال غنیمت) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو کہ انفال اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں ۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت اور ان کے لئے عزت کی روزی ہے ۴-۱ سورۂ انفال جنگ بدر ( ۲ھ) کے بعد اتری۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدان جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔ اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس طرح میدان جنگ سے مال غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدان جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کر سکے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ اصولی طور پر تو جنگ کے تمام شرکا ر اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دار سمجھتے تھے۔ مگر مال غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے لئے صرف الفاظ تھے۔ جبکہ دوسرے کا حق کسی دلیل و ثبوت کے بغیر خود قبضے کے زور پر قائم تھا۔
اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ابھارتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کا دل خدا اور رسول کی اطاعت کے لئے نرم پڑ جاتا ہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے ۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے نہ کہ لوگوں سے چھین کر یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔ حقیقت پسندی اور اعتراف حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہہ ان کی اصلاح کے لئے کافی ہو جاتی ہے ۔ خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہر ایک کو اس حد پر پہنچا دیتا ہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہئے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر رکنے کے لئے راضی ہو جائے سو ہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1981 All issues