Dead men tell no tales, but their ashes may
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۴
تذکیرالقرآن الانفال ۸ اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لئے فرقان بھی پہنچائے گا اور تم سے تمھارے گناہوں کو دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے، اور جب کافر تمھاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیر والا ہے۔ ۲۹ - فرقان کے معنی ہیں فرق کرنے والی چیز۔ یہاں فرقان سے مراد حق و باطل کے ومیان فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ آدمی اگر اللہ سے ڈرے، وہ وہی کرے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اس سے بچے جس سے اللہ نے منع کیا ہے تو اس کو اس بات کی توفیق ملتی ہے کہ وہ حق اور باطل کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھ سکے (من اتقی بفعل او امرہ وترك نواجرہ و دقت لمعرفة الحق من الباطل، ابن کثیر)
انسانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز ڈر ہے۔ جس معاملہ میں انسان کے اندر ڈر کی نفسیات پیدا ہو جائے اس معاملہ میں وہ حد درجہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے ذہن کے تمام پردوں کو اس طرح ہٹا دیتی ہے کہ اس بارہ میں وہ ہر قسم کی غفلت یا غلط فہمی سے بلند ہو کر صحیح ترین رائے قائم کر سکے۔ یہی معاملہ اس بندہ خدا کے ساتھ پیش آتا ہے جس کو رب العالمین کے ساتھ تقویٰ (ڈر) کا تعلق پیدا ہو گیا ہو۔ یہ فرقان تقریباً وہی چیز ہے جس کو معرفت یا بصیرت کہا جاتا ہے۔ بصیرت کسی آدمی میں وہ اندرونی روشنی پیدا کرتی ہے کہ وہ ظاہری پہلوؤں سے دھوکا کھائے بغیر ہر بات کو اس کے اصل روپ میں دیکھ سکے، جب بھی کوئی آدمی کسی معاملہ میں اپنے کو اتنا زیادہ شامل کرتا ہے کہ وہ اس کی پروا کرنے لگے، وہ اس کے بارے میں اندیشہ ناک رہتا ہو تو اس کے بعد اس کے اندر ایک خاص طرح کی حساسیت پیدا ہوتی ہے جو اس کو اس معاملہ کے موافق اور مخالف پہلوؤں کی پہچان کرا دیتی ہے۔ یہ فرقانی معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے خواہ وہ ایک مذہبی آدمی ہو یا ایک تاجر اور ڈاکٹر اور انجینئر۔ کوئی بھی آدمی جب اپنے کام سے تقوی (کھٹک) کی حد تک اپنے کو وابستہ کرتا ہے تو اس کو اس معاملہ کی ایسی معرفت ہو جاتی ہے کہ ادھر ادھر کے مغالطوں میں الجھے بغیر وہ اس کی حقیقت تک پہنچ جائے۔ کسی آدمی کے اندر یہ خدائی بصیرت (فرقان) پیدا ہونا اس بات کی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ وہ برائیوں سے بچے، وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کرے اور بالآخر خدا کے فضل کا مستحق بن جائے۔ یہ فرقان (حق در باطل کی نفسیاتی تمیز) پیدا ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حق کے ساتھ اتنا زیادہ وابستہ کر چکا ہے کہ اس میں اور حق میں کوئی فرق نہیں رہا۔ وہ اور حق دونوں ایک دوسرے کا ثمنیٰ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد اس کا بچایا جانا اتنا ہی ضروری ہو جاتا ہے جتنا حق کو بچایا جانا۔ ایسے لوگ براہ راست خدا کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اب ان کے خلاف تدبیریں کرنا خود حق کے خلاف تدبیریں کرنا بن جاتا ہے۔ اور خدا کے خلاف تدبیر کرنے والا ہمیشہ ناکام رہتا ہے خواہ اس نے کتنی ہی بڑی تدبیر کر رکھی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues