Al-Risala · September 1981 · page 25

Dead men tell no tales, but their ashes may

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵

تذکیر القرآن الانفال ۸ اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا ہی کلام پیش کر دیں یہی تو بس اگلوں کی کہانیاں ہیں۔ اور جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔ اور اللہ ایسا کرنے والا نہیں کہ ان کو عذاب دے اس حال میں کہ تم ان میں موجود ہو اور اللہ ان پر عذاب لانے والا نہیں جب کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ اور اللہ ان کو کیوں نہ عذاب دے گا حالاں کہ وہ مسجد حرام سے دوکتے ہیں جب کہ وہ اس کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف اللہ سے ڈرنے والے ہو سکتے ہیں۔ مگر ان میں سے اکثر اس کو نہیں جانتے۔ اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ پس اب چکھو عذاب اپنے کفر کا ۳۵ - ۳۱ ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم تالق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔ اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانون مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقیناً مجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتا ہے جب کہ اس کے اوپر حق و باطل کی وضاحت کا کام مکمل طور پر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگر ایک ایک دو رو آدمی اس سے متاثر ہو کر اپنی اصلاح کر رہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہو جائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آ چکی ہوں۔

امتوں میں بگاڑ آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ خوف خدا اور الدین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم دھام والا دین آجاتا ہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہو کر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہو گئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کر کے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے ۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں ۔ ابراہیم و اسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں، ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page