Dead men tell no tales, but their ashes may
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶
تذکیر القرآن الانفال ۸ جن لوگوں نے انکار کیا وہ اپنے مال کو اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں۔ وہ اس کو خرچ کرتے رہیں گے پھر یہ ان کے لئے حسرت بنے گا پھر وہ مغلوب کئے جائیں گے۔ اور جنہوں نے انکار کیا ان کو جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ تاکہ اللہ ناپاک کو الگ کر دے پاک سے اور ناپاک کو ایک پر ایک رکھے پھر اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے، یہی لوگ ہیں خسارہ میں پڑنے والے ۳۶-۳۷ انسانوں میں کچھ پاک ہیں اور کچھ ناپاک۔ کچھ روحوں کی غذا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو خدا کو پسند ہیں اور کچھ روحوں کو ان چیزوں میں لذت ملتی ہے جو ان کے نفس کو یا شیطان کو مرغوب ہیں ۔
عام حالات میں یہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے ملے رہتے ہیں۔ بظاہر ان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق و باطل کی کش مکش برپا کرتا ہے تاکہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں اور یہ معلوم ہو جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا تھا۔
اس کش مکش کے دوران کھل جاتا ہے کہ کون حق کے سامنے آنے کے بعد فوراً اس کو مان لیتا ہے اور کون وہ ہے جو اس کا انکار کر دیتا ہے۔ کون دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے پر انصاف کی حد پر قائم رہتا ہے اور کون بے انصافی پر اتر آتا ہے۔ کون خدا کی زمین میں متواضع بن کر رہتا ہے اور کون سرکش بن کر۔ کون سچائی کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے والا ہے اور کون تعصب اور نمائش کی راہ میں۔
جو لوگ حق کو چھوڑ کر دوسری راہوں میں اپنی کوششیں صرف کرتے ہیں ان کے اس عمل کو شیطان ان کی نظر میں اس طرح حسین بنا تار ہتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ کارنامے انجام دے رہے ہیں، وہ شان دار مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر اس غلط فہمی کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ بہت جلد آدمی پر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ جان لیتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ صرف اپنی قوت اور اپنے مال کو ضائع کرنا تھا، وہ جس مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھا وہ حسرت اور مایوسی کا مستقبل تھا ، اگر چہ جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ اس روشن مستقبل کی طرف سفر کے ہم معنی سمجھتا رہا تھا۔
بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو طلائی دین کی بنیاد پر سرداری قائم کئے ہوئے تھے۔ وہ اس روایتی ڈھانچہ کی حفاظت میں اپنی ساری طاقت خرچ کر دیتے ہیں جس کے اندر انھیں بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ مگر ایسے لوگ بے آمیز حق کے مقابلہ میں لازماً ناکام ہوتے ہیں، کبھی دلیل کے میدان میں اور کبھی اسی کے ساتھ عمل کے میدان میں بھی۔
موجودہ دنیا کے ہنگامے صرف اس لئے جاری کئے گئے ہیں کہ پاک روحوں اور ناپاک روحوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ یہ چھانٹنے کا عمل جب پورا ہو جائے گا تو خدا پاک روحوں کو جنت میں داخل کر دے گا اور ناپاک روحوں کو ایک ساتھ جمع کر کے جہنم میں دھکیل دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues