Al-Risala · September 1981 · page 27

Dead men tell no tales, but their ashes may

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷

تذکر القرآن الانفال انکار کر لے والوں سے کہو کہ اگر وہ باز آ جائیں تو جو کچھ ہو چکا ہے وہ انہیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر وہ پھر وہی کریں گے تو ہمارا معاملہ اگلوں کے ساتھ گزر چکا ہے ۔ اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔ اور اگر انھوں نے اعراض کیا تو جان لو کہ اللہ تمھارا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگار ۳۰ - ۳۸ اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے اس کے مطابق وہ اپناید لیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس عام اصول میں اپنی رحمت سے ایک خاص استثناء رکھا ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی جب توبہ کرنے تو اس کے بعد اس کے پچھلے اعمال پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی ۔ ایک شخص خدا سے دوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر اس کو ہدایت کی روشنی ملی ۔ اس نے سچا مومن بن کر صالح زندگی اختیار کر لی تو اس سے پہلے اس نے جو برائیاں کی تھیں وہ سب معاف کر دی جائیں گی ۔ اس کے پچھلے گناہوں کی بنا پر اس کو نہیں پکڑا جائے گا۔

ٹھیک یہی اصول اجتماعی اور سیاسی معاملے میں بھی ہے کسی مقام پر حق اور باطل کی کش مکش برپا ہوتی ہے آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے ، اس ٹکراؤ کے دوران میں باطل کے علم بردار حق کے لئے اٹھنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بالآخر جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ حق پرست غالب آجاتے ہیں اور ناحق کے علم دار مغلوب ہو کر زیر کر دئے جاتے ہیں، اس معاملے میں بھی اسلام کا اصول وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا یعنی فتح کے بعد پچھلے ظلم و ستم پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی ۔ البتہ جو شخص فتح کے بعد کوئی ایسی حرکت کرے جو اسلامی قانون میں جرم قرار دی گئی ہو تو ضروری کارروائی کے بعد اس کو وہ سزا ملے گی جو شریعت نے ایسے ایک مجرم کے لئے مقرر کی ہے ۔

فتنہ کا مطلب ستانا (Persecution) ہے ۔ قدیم زمانہ میں سرداری اور حکومت شرک کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ آج حکومت کرنے والے عوام کا نمائندہ بن کر حکومت کرتے ہیں ، ماضی میں خدا یا خدا کے شریکوں کا نمائندہ بن کر لوگ حکومت کیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں شرک کو قدیم سماج میں با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی ۔ اہل شرک اہل توحید کو ستاتے رہتے تھے ۔ اللہ نے اپنے رسول اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا کہ شرک اور اقتدار کے باہمی تعلق کو توڑ دو تا کہ مشرکین اہل توحید کو ستانے کی طاقت سے محروم ہو جائیں ۔ چنانچہ آپ کے ذریعہ جو عالمی انقلاب آیا اس نے ہمیشہ کے لئے شرک کا رشته سیاسی نظام سے ختم کر دیا۔ اب شرک ساری دنیا میں صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے نہ کہ وہ سیاسی نظریہ جس کی بنیاد پر حکومتوں کا قیام عمل میں آتا ہے ۔

تاہم جہاں تک عرب کا تعلق ہے وہاں یہ مقصد دہرا صورت میں مطلوب تھا، یہاں شرک اور مشرکین دونوں کو ختم کرنا تھا تا کہ حرمین کے علاقہ کو ابدی طور پر خالص توحید کا مرکز بنا دیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شروع ہوا اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page