تذکیر القرآن | الانفال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸
تذکیر القرآن | الانفال
اور جان لو کہ جو کچھ مال غنیمت تمھیں حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لئے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے (محمد) پر اتاری فیصلہ کے دن، جس دن کہ دونوں جماعتوں میں مڈبھیڑ ہوئی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ام غنیمت عربی زبان میں اس مال کو کہتے ہیں جو میدانِ جنگ میں دشمن سے لڑ کر حاصل کیا گیا ہو۔ قدیم زمانہ میں یہ رواج تھا کہ جنگ کے بعد دشمن کی جو چیز جس کے ہاتھ لگے وہ اسی کی سمجھی جائے۔ اسلام نے یہ اصول مقرر کیا کہ ہر ایک کو جو کچھ ملا ہو وہ سب کا سب لا کر امیر کے پاس جمع کرے، کوئی شخص سوئی کا دھاگا تک چھپا کر نہ رکھے۔
اس طرح سارا مال غنیمت اکٹھا کرنے کے بعد اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا ہے جس کو رسول نیابت کے طور پر وصول کر کے پانچ جگہ اس طرح خرچ کرے گا کہ ــــــــ ایک حصہ اپنی ذات پر، پھر اپنے ان رشتہ داروں پر جنہوں نے رشتہ کی بنیاد پر مشکل وقتوں میں آپ کے دینی مشن میں آپ کا ساتھ دیا، اور یتیموں پر اور حاجت مندوں پر اور مسافروں پر ـــــ اس کے بعد بقیہ چار حصے کو تمام فوجیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے کہ سوار کو دو حصے ملے اور پیدل کو ایک حصہ۔
اسلام یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ آدمی جو چیز پائے اس کو وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھے۔ اس دنیا میں کسی واقعہ کو ظہور میں لانے کے لئے بے شمار اسباب کی بیک وقت موافقت ضروری ہے جو کسی بھی انسان کے بس میں نہیں۔ بدر کی لڑائی میں ایک بے حد طاقت ور گروہ کے مقابلہ میں ایک کمزور گروہ کا فیصلہ کن طور پر غلبہ پانا اس بات کا ایک غیر معمولی ثبوت تھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کی طرف سے ہوا ہے۔ ایسی حالت میں فتح کے بعد ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھنا عین اس حقیقت کو ماننا تھا جو واقعات کے نتیجہ میں فطری طور پر سامنے آئی ہے۔
مال غنیمت میں دوسرے مستحق بھائیوں کا حصہ رکھنا اس بات کا سبق ہے کہ اموال میں حق دار ہونے کی بنیاد صرف محنت اور وراثت نہیں بلکہ ایسی بنیادیں بھی ہیں جو محنت اور وراثت جیسی چیزوں کے دائرہ میں نہیں آئیں۔ استحقاق کی ان دوسری مدوں کا اعتراف گویا اس واقعہ کا عملی اعتراف ہے کہ آدمی چیزوں کو خدا کی چیز سمجھتا ہے نہ کہ اپنی چیز۔
غنیمت کے اس قانون میں تیسرا زبر دست سبق یہ ہے کہ ملکیت کی بنیاد قبضہ نہیں بلکہ اصول ہے۔ کوئی شخص محض اس بنا پر کسی چیز کا مالک نہیں بن جائے گا کہ وہ اتفاق سے اس کے قبضہ میں آگئی ہے۔ قبضہ کے باوجود آدمی کو چاہئے کہ اس چیز کو ذمہ دار افراد کے حوالے کرے اور اصولی اور قانونی بنیاد پر اس کو جتنا ملنا چاہئے اس کو لے کر اس پر راضی ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues