Al-Risala · September 1981 · page 29

تذکیر القرآن | الانفال

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹

اور جب کہ تم وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور کے کنارے پر۔ اور قافلہ سے نیچے کی طرف تھا۔ اور اگر تم اور وہ وقت مقرر کرتے تو ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہو جاتا۔ لیکن جو ہوا وہ اس لئے ہوا تا کہ اللہ اُس امر کا فیصلہ کر دے جس کو ہو کر رہنا تھا، تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہے وہ روشن دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندگی حاصل کرنا ہے وہ روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ یقیناً اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ جب اللہ تمھارے خواب میں ان کو تھوڑا دکھاتا رہا۔ اگر وہ ان کو زیادہ دکھا دیتا تو تم لوگ ہمت ہار جاتے اور آپس میں جھگڑنے لگتے اس معاملہ میں ۔ لیکن اللہ نے تم کو بچایا۔ یقیناً وہ دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ اور جب اللہ نے ان لوگوں کو تمھاری نظر میں کم کر کے دکھایا اور تم کو ان کی نظر میں کم کر کے دکھایا۔ تاکہ اللہ اس امر کا فیصلہ کر دے جس کا ہونا طے تھا اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں ۳۶-۴۲۔

اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتا ہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمینی غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔

قریش مکہ سے اس لئے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ یہ مسلمان مدینہ سے اس لئے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہو گئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح کھل گئی۔ جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہو گئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لئے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کر دیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کر دیا جائے۔

بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہو جاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہو سکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدبر بیچ کر اس کام کی تکمیل کا سامان کر دیتا ہے۔ عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے لئے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page