مومن وہ ہے جو خدا کی پکار پر فوراً لبیک کہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۱
مومن وہ ہے جو خدا کی پکار پر فوراً لبیک کہے
سورہ مائدہ میں یہ حکم اترا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور پانسه بڑے گندے شیطان کے کام ہیں ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو۔ شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمھارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈال دے۔ اور تم کو اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ تو کیا تم لوگ اس سے باز آؤ گے (فھل انتم منتھون) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن کا یہ حصہ اترا تو حسب عادت آپ نے اس کو پڑھ کر معمر کو سنایا۔ اس کو سناتے ہوئے جب آپ فھل انتم منتھون تک پہنچے تو صحابہ میں سے ہر شخص پکار اٹھا: انتھینا يا رب انتھینا يا رب (اے ہمارے رب ہم باز آئے، اے ہمارے رب ہم باز آئے)
لوگوں کے لئے سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو لوگوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرے صحابہ تابعی کہتے ہیں کہ صحابہ یہ کہا کرتے تھے کہ تمھارا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہے جو تمھارے بارے میں اللہ سے ڈرے (انصح الناس لك من خاف الله فيك، جامع العلوم والحكم (۷)
وہ رسول اللہ کے فیصلے سے ہٹنا نہیں جانتے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات کے آخری دنوں میں رومیوں سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر تیار فرمایا تھا۔ تین ہزار کے اس لشکر میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے۔ ان کے اوپر اسامہ بن زید کو امیر مقرر فرمایا تھا جو نسبتاً ایک نوجوان شخص تھے۔ حسن بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو جیش اسامہ ابھی راستہ میں تھا۔ اسامہ بن زید رض نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ خلیفہ رسول کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ ہم کو مدینہ لوٹنے کی اجازت دے دیں۔ ضرورت ہے کہ اس وقت سب سے پہلے مرتدین کا مقابلہ کیا جائے جو مدینہ کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ حضرت عمر چلے اور حضرت ابوبکر کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ کو حضرت اسامہ کا پیغام پہنچایا۔ حضرت ابوبکر نے کہا: اگر کتے اور بھیڑیے مجھ کو پھاڑ کھائیں تب بھی میں اس فیصلہ کو بدلنے والا نہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: انصار نے مجھ سے کہا ہے کہ میں ان کا یہ پیغام آپ تک پہنچا دوں کہ وہ ایک ایسا امیر چاہتے ہیں جو عمر میں اسامہ سے زیادہ ہو۔ حضرت ابوبکر اس وقت بیٹھے ہوئے تھے یہ سن کر جھپٹ پڑے اور حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر کہا: اے خطاب کے لڑکے! تیری ماں تجھ کو گم کرے اور معدوم کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امیر مقرر کیا ہے اور تم مجھ سے کہتے ہو کہ میں ان سے امارت چھین لوں (ثکلتک امك وعدمتك يا ابن الخطاب، استعمله رسول الله صلى الله عليه وسلم وتا مرنى ان انزعہ، ، البدایه والنہایہ جلد 6)
اللہ کا نام آتے ہی گردن جھکا دیتا
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تھے۔ اتنے میں آپ نے تیز تیز آوازیں سنیں۔ دروازہ کے باہر دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے۔ ایک نے دوسرے کو قرض دیا تھا جس کے ذمہ قرض تھا وہ کہہ رہا تھا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues