بیس سال بعد
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۶
بیس سال بعد
۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کے درمیان تقریباً ۲۰ سال تک جاپان کا حال یہ تھا کہ وہ صنعتی ٹیکنالوجی کی اعلیٰ قسموں کو مغربی ملکوں سے حاصل کرتا تھا۔ کبھی ادھار، کبھی مانگ کر اور کبھی خرید کر۔ مگر آج جاپان کی اقتصادیات اپنی ذاتی بنیادوں پر قائم ہیں۔ جاپان اس حیثیت میں ہو گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی مصنوعات کو بلکہ اپنی صنعتی مہارت کو بھی دوسرے ملکوں میں بھیج سکے۔
صنعت میں اپنی ترقی یافتہ تکنیکی صلاحیت کی بنا پر اس کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی مدد کر کے ان کی دوستی حاصل کر سکے۔ مختلف ملکوں کی بڑی بڑی اسکیموں کا ٹھیکہ لے کر ان سے تجارتیں کرے۔ جاپانی ماہرین آج تھائی لینڈ میں آب پاشی کے جدید منصوبوں کو بروئے کار لار ہے ہیں۔ وہ سنگاپور میں کمپیوٹر پروگرام کی تعلیم دے رہے ہیں۔ وہ جنوبی کوریا اور چین میں فولاد کے کارخانے تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ شرق اوسط میں پیٹروکیمیکل صنعتیں قائم کر رہے ہیں۔
جاپانیوں نے ابتداء فولاد بنانا امریکیوں سے سیکھا تھا، اب وہ اس ہنر کو مزید ترقی دے کر اس کو خود امریکہ کو برآمد کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ جاپان جو کسی وقت امریکہ کا شاگرد تھا، اب اس نے کئی چیزوں، خاص طور پر مواصلات (کمیونی کیشن) اور الیکٹرانکس میں اتنی ترقی کرلی ہے کہ امریکہ خود اپنے فوجی اہمیت کے شعبوں میں جاپان کی تکنیکی مدد حاصل کرنے کے لئے جاپان سے معاہدہ کر رہا ہے۔ شاگرد اس قابل ہو گیا ہے کہ اپنے استاد کو سبق دے سکے۔
جاپان کے اس تجربہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک اخباری مبصر (ہندوستان ٹائمز ۱۱ جون ۱۹۸۱) نے لکھا ہے ۔ ٹیکنالوجی کا بہاؤ پہلے جاپان کے اندر تھا، اب اس کا بہاؤ جاپان کے باہر ہے : Now the flow is out instead of in جاپان ۲۰ سال تک صنعتی مغلوبیت پر راضی رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج اس کو صنعتی غلبہ کا مقام حاصل ہو گیا۔ اگر وہ اول دن سے غلبہ پر اصرار کرتا تو اس کے حصہ میں صرف یہ آتا کہ اس کی مغلوبیت کبھی ختم نہ ہو۔ ہر پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ ہر بلندی کے لئے کچھ پستی کو گوارا کرنا ہوتا ہے۔ یہی دنیا کا قانون ہے۔ جو لوگ دنیا کے اس قانون کے ساتھ موافقت کریں وہی خدا کی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ اس قانون کے ساتھ موافقت کرنے کے لئے تیار نہ ہوں ان کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ وہ ناکام ہو کر رہ جائیں اور اس کے بعد بے فائدہ طور پر دوسروں کو اپنی بربادی کا جھوٹا الزام دیتے رہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues