Al-Risala · October 1981 · page 19

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹

-تذکیر القرآن الانفال ۸ اور اگر تم دیکھتے جب کہ فرشتے ان منکرین کی جان قبض کرتے ہیں، مارتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر، اور بے کہتے ہوئے کہ اب جلنے کا عذاب چکھو۔ یہ بدلہ ہے اس کا جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجا تھا اور اللہ ہرگز بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ فرعون والوں کی طرح اور جو ان سے پہلے تھے کہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا پس اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑ لیا۔ یہ شک اللہ قوت والا ہے، سخت سزا دینے والا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو ان کے نفسوں میں ہے۔ اور بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ فرعون والوں کی طرح اور جو ان سے پہلے تھے کہ انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ان کے گناہوں کے سبب سے ان کو ہلاک کر دیا اور ہم نے فرعون والوں کو غرق کر دیا اور یہ سب لوگ ظالم تھے۔ (۵۵-۵۰)

نعمت کا انحصار حالت استحقاق نعمت پر ہے۔ قومی سطح پر کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ ہمیشہ اس استحقاق کے بقدر ہوتی ہیں جو نفسی حالت کے اعتبار سے اس کے یہاں پایا جاتا ہے۔ یہ "نفس" چونکہ فرد کے اندر ہوتا ہے اس لئے اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اجتماعی انعامات کا انحصار انفرادی حالات پر ہے۔ افراد کی سطح پر قوم جس درجہ میں ہو اسی کے بقدر اس کو اجتماعی انعامات دئے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ اگر خدا کے اجتماعی انعامات کو پانا چاہتا ہے تو اس کو اپنے افراد کی نفسی اصلاح پر اپنی طاقت صرف کرنا چاہئے ۔ اسی طرح کوئی قوم اگر اپنے کو اس حال میں دیکھے کہ اس سے اجتماعی نعمتیں چھن گئی ہیں تو اس کو خود نعمتوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے افراد کے پیچھے دوڑنا چاہئے ۔ کیونکہ افراد ہی کے بگڑنے سے اس کی نعمتیں چھنی ہیں اور افراد ہی کے بننے سے دوبارہ دہا سے مل سکتی ہیں۔

جب کوئی قوم عدل کے بجائے ظلم اور تواضع کے بجائے سرکشی کا رویہ اختیار کرتی ہے تو خدا کی طرف سے اس کے سامنے سچائی کا اعلان کرایا جاتا ہے تاکہ وہ متنبہ ہو جائے۔ یہ اعلان کمالِ وضاحت کے اعتبار سے خدا کی ایک نشانی ہوتا ہے ۔ اس کو ماننا خدا کو ماننا ہوتا ہے اور اس کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا۔ خدا کی دعوت جب آیت (نشانی) کی حد تک برہنہ ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے پھر بھی وہ اس کا انکار کریں تو اس کے بعد لازماً وہ سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ اس سزا کا آغاز اگرچہ دنیا ہی سے ہو جاتا ہے۔ تاہم دنیا کی سزا اس سزا کے مقابلہ میں بہت کم ہے جو موت کے بعد آدمی کے سامنے آنے والی ہے۔ فرشتوں کی مار، ساری مخلوق کے سامنے رسوائی اور جہنم کی آگ میں جلنا ۔ یہ سب اتنے ہولناک مراحل ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

انسان جب ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اولاً اس کے لئے تنبیہات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر وہ ان سے سبق نہ لے تو بالآخر وہ خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page