Al-Risala · October 1981 · page 20

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰

تذکیر القرآن الانفال ۸ بے شک سب جانداروں میں بدترین اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنہوں نے انکار کیا اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ جن سے تم نے عہد لیا، پھر وہ اپنا عہد ہر بار توڑ دیتے ہیں اور وہ ڈرتے نہیں۔ پس اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو ان کو ایسی سزا دو کہ جو ان کے پیچھے ہیں وہ بھی دیکھ کر بھاگ جائیں، تاکہ انھیں عبرت ہو۔ اور اگر تم کو کسی قوم سے بد عہدی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو، ایسی طرح کہ تم اور وہ برابر ہو جائیں۔ بے شک اللہ بدعہدوں کو پسند نہیں کرتا ٥۸ - ۵۵ مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کر کے خدا کی نظر میں مجرم ہو چکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عهدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاملہ میں غیر جانب دار رہیں گے۔ مگر یہود خفیہ طور پر آپ کے دشمنوں (مشرکین) سے مل کر آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ یہ کفر پر بد عہدی کا اضافہ تھا۔ یہ انکار کے ساتھ کمینگی کو جمع کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں ہولناک عذاب ہے اور دنیا میں یہ حکم ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ان کی شرارتوں کا خاتمہ ہو اور ان کے ارادے پست ہو جائیں۔ اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا عہد ہو اور مسلمان ان کی طرف سے بد عہدی کے اندیشہ کی بنا پر اس عہد کو توڑنا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ پہلے انھیں اس کی اطلاع دیں تاکہ دونوں پیشگی طور پر یہ جان لیں کہ اب دونوں کے درمیان عہد کی حالت باقی نہیں رہی۔ امیر معاویہ اور رومی حکراں میں ایک بار میعادی معاہدہ تھا۔ معاہدہ کی مدت قریب آئی تو امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو خاموشی کے ساتھ روم کی سرحد پر جمع کر تا شد روع کیا تا کہ معاہدہ کی تاریخ ختم ہوتے ہی اگلی صبح کو اچانک رومی علاقہ پر حملہ کر دیا جائے ۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمرو بن عنبسہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے ۔ وہ با آواز بلند کہہ رہے تھے الله اكبر الله اكبر وفاء لا غدر (اللہ اکبر، عہد پورا کرو، عہد کو نہ توڑو) انھوں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی: من کان بینه وبين قوم عهد فلا يحلن عقدة ولا يشد ها حتى ينقضي آمد ها او ينبذ اليهم على سواء (جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے اور نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہو جائے یا برابری کے ساتھ عہد اس کی طرف پھینک دیا جائے (تفسیر ابن کثیر) دوسری صورت وہ ہے جب کہ صرف اندیشہ کی بات نہ ہو بلکہ فریق ثانی کی طرف سے عملاً معاہدہ کی واضح خلاف ورزی ہو چکی ہو۔ ایسی صورت میں اجازت ہے کہ فریق ثانی کو مطلع کئے بغیر جوابی کارروائی کی جائے ۔ غزوہ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدہ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع دئے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page