Al-Risala · October 1981 · page 21

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱

اور انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہرگز اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمھاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمھارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے۔ اللہ ان کو جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمھیں پورا کر دیا جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمھارے لیے کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی نصرت اور مومنین کے ذریعہ تم کو قوت دی۔ اور ان کے دلوں میں اتفاق پیدا کر دیا۔ اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر ڈالتے تب بھی ان کے دلوں میں اتفاق پیدا نہ کر سکتے۔ لیکن اللہ نے ان میں اتفاق پیدا کر دیا، بے شک وہ زور آور ہے حکمت والا ہے ۶۳ - ۵۹ اسلام کا اعتماد استعمال قوت سے زیادہ مظاہرہ قوت پر ہے۔ اسی لئے اہل اسلام کو قوت مہیا کرنے کرنے کا حکم دیا گیا، یعنی وہ چیزیں جو حریف کو اس قدر مرعوب کریں کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ اسلام وقت کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بناتا ہے، مگر لازماً لڑنے کے لئے نہیں۔ بلکہ اس لئے تاکہ اس کے دشمنوں پر اس کی دھاک قائم رہے اور وہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی ہمت نہ کریں۔ اسلام کو وقت کے معیار کے مطابق فکری اور عملی اعتبار سے طاقت ور بنانے میں جو لوگ اپنی کمائی خرچ کریں گے وہ کئی گنا زیادہ مقدار میں اس کا بدلہ اپنے رب کے یہاں پائیں گے۔

اسلام کی فتح کاراز اصلاً جنگی مقابلوں میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی تبلیغ میں ہے۔ اس لئے حکم ہوا کہ جب بھی فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو ہر اندیشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو قبول کر لو ۔ کیونکہ اندیشہ بہرحال یقینی نہیں اور جنگ بندی کا یہ فائدہ یقینی ہے کہ پر امن فضا میں اسلام کا دعوتی عمل شروع ہو جائے اور اس طرح جنگ کا رکنا اسلام کی نظریاتی توسیع کا سبب بن جائے۔

اسلام خود اپنی ذات میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ اگر پوری طرح کسی گروہ کے افراد میں پیدا ہو جائے تو ان کے اندر سے وہ تمام نفسیاتی خرابیاں نکل جاتی ہیں جو نا اتفاقی اور باہمی ٹکراؤ کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب باہم جڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ متحد گروہ اگر تعداد میں کم ہو تب بھی وہ اپنے سے زیادہ تعداد رکھنے والے گروہ پر غالب آ جائے گا۔

باہمی اتفاق سب سے زیادہ مشکل چیز ہے کسی گروہ کے نصرت یافتہ ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ اس کے . افراد باہم متحد رہیں، کوئی بھی چیز ان کے اتحاد کو توڑنے والی ثابت نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page